مقامی حکومتوں کے انتخابات اور آئینی مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانےکے موضوع پر اجلاس

لاہور(نمائندہ خصوصی) ہوم نیٹ پاکستان نے آواز سی ڈی ایس پاکستان اور پاکستان ڈیموکریٹک آلائنس / پی ڈی اے کے تعاون سے ’’پنجاب میں بروقت مقامی حکومتوں کے انتخابات اور آئینی م

لاہور (شہزاد ملک) ہوم نیٹ پاکستان نے آواز سی ڈی ایس پاکستان اور پاکستان ڈیموکریٹک آلائنس / پی ڈی اے کے تعاون سے ’’پنجاب میں بروقت مقامی حکومتوں کے انتخابات اور آئینی مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے‘‘ کے موضوع پر ایک کثیر الفریقی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں اراکینِ صوبائی اسمبلی، حکومتی اداروں کے نمائندوں، قانونی اور انتظامی ماہرین، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں، میڈیا نمائندگان اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

اجلاس کے افتتاحی خطاب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہوم نیٹ پاکستان اُم لیلیٰ اظہر نے کہا کہ بلدیاتی حکومتیں جمہوریت کی بنیاد اور عوامی مسائل کے حل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ بااختیار مقامی حکومتیں عوامی خدمات کی بہتر فراہمی، شفافیت، جوابدہی اور شہری شمولیت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140۔اے کے مطابق بروقت لوکل گورنمنٹس کے انتخابات جمہوری تسلسل اور عوامی نمائندگی کے لیے ضروری ہیں۔ شرکاء نے پنجاب حکومت کی طرف سے وزیرِاعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کیے جانے والے عوامی خدمات اور ترقیاتی اقدامات کو سراہا اور اِس اَمر پر زور دیا کہ بااختیار، شفاف اور جوابدہ مقامی حکومتوں کے ذریعے ان اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

شرکاء نے وزیرِاعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ سٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد اور آئینی تقاضوں کی تکمیل کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔ شرکاء نے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اپنی آراء پیش کیں۔ ممبر پنجاب اسمبلی فاطمہ بیگم نے جمہوری اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور بروقت مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے سیاسی عزم کی اہمیت پر زور دیا۔ توقیر صادق نے آئین پاکستان کے متعلقہ آرٹیکل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات فراہم کریں۔زاہد اسلام نے مقامی حکومتوں کی مؤثر کارکردگی کے لیے انتظامی اور مالی خودمختاری کی ضرورت پر زور دیا۔

نبیلہ شاہین نے خواتین، افراد باہم معذوری، خواجہ سرا افراد، نوجوانوں اور دیگر محروم طبقات کی مقامی فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔ عرفان مفتی کے زیرِ صدارت کھلی بحث کے دوران شرکاء نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر، اختیارات کی محدود منتقلی، مالی خودمختاری کی کمی، مرکزی فیصلہ سازی اور عوامی نمائندوں تک شہریوں کی محدود رسائی کو اہم چیلنج قرار دیا۔

شرکاء نے سفارش کی کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد تک ایک بااختیار عبوری کثیر الجماعتی نگرانی کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے نمائندگان شامل ہوں۔ یہ نظام ترقیاتی منصوبہ بندی، عوامی وسائل کے استعمال اور مقامی اقدامات میں شفافیت، نگرانی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

شرکاء نے تجویز دی کہ نئے انتخابات کے انعقاد تک سابقہ مقامی حکومتوں/بلدیاتی نظام کو بحال کیا جائے تاکہ عوام کو نچلی سطح پر نمائندگی، خدمات اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر ادارہ دستیاب رہے۔ مشاورتی اجلاس میں سفارش کی گئی کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جائزہ لیا جائے، مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات فراہم کیے جائیں جبک خواتین اور معذور افراد سمیت خواجہ سرا اور محروم طبقات کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ شرکاء نے عوامی آگاہی مہمات کے فروغ، حکومت، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا، تعلیمی اداروں اور دیگر شراکت داروں کے درمیان مسلسل رابطہ کاری اور باقاعدہ مشاورتی عمل کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

Avatar photo
noshadali
Articles: 15