Category آراء اور تجزیے

Opinion

اسرائیل اور امریکی انتخابات کے نتائج دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں

اسرائیل اور امریکہ کے انتخابات کی علامتی تصویر

بی بی سی اردو کا تجزیہ: اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات عالمی پالیسی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایران اور خطے سے متعلق فیصلوں کے تناظر میں۔

لبنانی رہائشی اور تجزیہ کار 27 اکتوبر کے انتخابات سے اسرائیل کی پالیسی میں تبدیلی پر شک میں

لبنانی شہری اور تجزیہ کار انتخابات کے بعد اسرائیل کی پالیسی پر شک کا اظہار کرتے ہوئے

لبنانی رہائشیوں اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات اسرائیل کی لبنان کے خلاف پالیسی میں کوئی معنی خیز تبدیلی لائیں گے، اس بارے میں وہ شکوک ظاہر کر رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے تنازعے میں جنگ رکوانے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، خورشید محمود قصوری کا تجزیہ

خورشید محمود قصوری کا تجزیہ: پاکستان کی سفارتی کوششیں اور روسی وزیرخارجہ کا تہران دورہ

خورشید محمود قصوری کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ روکنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دیں، اور روسی وزیرخارجہ کے تہران دورے میں ثالثی کے امکانات پر غور کیا گیا ہے۔

ایک ہفتے میں روس کے تین سکیورٹی دورے، اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں

روس کے سیکیورٹی عہدے داروں کے خطے کے دارالحکومتوں کے دوروں کی نمائندہ تصویر

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی سیکیورٹی وفود نے اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی کا دورہ کیا؛ 14 اکتوبر کو کولوکولٹسیف نے پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور منظم جرائم کے خلاف تعاون کا معاہدہ ہوا۔

انگلش چینل پر چھوٹی کشتیوں میں پناہ گزین، ساحل پر توجہ ہے مگر آسمان کی نگرانی کون کرے گا؟

انگلش چینل پر چھوٹی کشتیوں میں سوار پناہ گزینوں کی تصویر

دی اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ انگلش چینل پر چھوٹی کشتیوں میں سوار پناہ گزین سمندری سرحد کو قومی توجہ کا مرکز بنا رہے ہیں، جبکہ مضمون سوال کرتا ہے کہ آسمان کی نگرانی کون کرے گا۔

’پاکستان میں عوام سے انتقام کے لیے جمہوریت بہترین راستہ ہے، اے آئی سے تیار کردہ خاکہ‘، کامران خان کا مضمون

کامران خان کا مضمون جس میں جمہوریت کو شناختِ انتقام قرار دیا گیا

کامران خان نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ پاکستان میں عوام سے انتقام لینے کے لیے جمہوریت بہترین راستہ ہے اور یہ خاکہ اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

کشمیر چوک پر درخت تباہ کرنے کے چند دن بعد ا اب شجرکاری مہم، رؤف کلاسرا کی تنقید

کشمیر چوک کے گرین بیلٹ میں پہلے درخت کٹے گئے پھر شجرکاری کا منظر

راؤف کلصرا نے لکھا ہے کہ چند دن پہلے کشمیر چوک پر بلڈوزر سے درخت تباہ کیے گئے اور چند دن بعد اکتوبر میں اسی جگہ شجرکاری مہم شروع کر دی گئی، جسے وہ ناقص منصوبہ بندی قرار دیتے ہیں۔