لبنانی رہائشی اور تجزیہ کار 27 اکتوبر کے انتخابات سے اسرائیل کی پالیسی میں تبدیلی پر شک میں

لبنانی رہائشیوں اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات اسرائیل کی لبنان کے خلاف پالیسی میں کوئی معنی خیز تبدیلی لائیں گے، اس بارے میں وہ شکوک ظاہر کر رہے ہیں۔

(ویب ڈیسک) لبنانی رہائشیوں اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات اسرائیل کی لبنان کے خلاف پالیسی میں کوئی معنی خیز تبدیلی لائیں گے، اس پر وہ شک میں ہیں۔

لبنانی باشندوں اور ماہرینِ تجزیہ نے 27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد بھی اسرائیل کی لبنان کے بارے میں پالیسی میں نمایاں فرق کے امکانات پر شک ظاہر کیا ہے۔ الخبروں کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال “نہ جنگ ہے نہ امن” جیسی طویل مدتی کیفیت ہے اور انتخابات اس توازن کو بدلنے میں ناکام رہ سکتے ہیں۔

یہ ردِ عمل لبنانی عوامی ماحول اور علاقائی سکیورٹی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں رہائشی اور تجزیہ کار دونوں محتاط ہیں کہ انتخابی نتائج اسرائیل کے طرزِ عمل یا سرحدی کشیدگی میں فوری اور واضح تبدیلی کا سبب بنیں گے۔

العالمی میڈیا کی اس رپورٹ میں لبنانی خیالات اور تجزیہ کاروں کے جذبات کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن رپورٹ میں مخصوص سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کے نام یا ووٹنگ کے ووٹ شیئر کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742