لاہور (سٹاف رپورٹر) پاکستان کی سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے تیز ہو گئی ہیں، یہ کہنا ہے خورشید محمود قصوری کے تازہ تجزیے کا جس میں انہوں نے روسی وزیرِ خارجہ کے دورۂ تہران اور ثالثی کے امکانات پر بات کی ہے۔
خورشید محمود قصوری کے تجزیے کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی کے تناظر میں سفارتی مداخلت تیز کر دی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ روسی وزیرِ خارجہ کا تہران کا دورہ اہمیت رکھتا ہے اور یہ دیکھا جانا باقی ہے کہ کیا وہ یا کوئی اور فریق ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
قصوری نے اس تازہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ممکنہ ثالثی کے راستوں اور سفارتی کوششوں کے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔
اصل تجزیہ اور مباحثے میں مبینہ ثالثی کے امکانات اور علاقائی و بین الاقوامی ردِ عمل کو زیرِ غور لایا گیا ہے، تاہم اصل رپورٹ میں مزید تفصیلی شواہد یا نتائج پیش نہیں کیے گئے۔




