(ویب ڈیسک) اکنامِسٹ کے مطابق انڈونیشیا میں مہنگائی کے مرکزی محرک ایران میں جاری جنگ اور خراب موسم ہیں، جو صدر پربووو سبیانتو کے کنٹرول سے باہر ہیں اور انہیں مشکل صورتحال میں چھوڑ رہے ہیں۔
اکنامِسٹ نے لکھا ہے کہ انڈونیشیا میں فِیَضِ قیمتوں (مہنگائی) کے محرک دو خارجی عوامل ہیں: ایران میں جاری جنگ اور موسمی حالات۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں عوامل صدر پربووو سبیانتو کے اختیار سے باہر ہیں۔
اخبار نے اس نتیجے پر بھی زور دیا ہے کہ جب مہنگائی کے بنیادی ڈرائیور ملکی سیاسی قیادت کے براہِ راست کنٹرول میں نہ ہوں تو حکمرانوں کے لیے معاشی مسائل کم از کم سیاسی طور پر حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال صدر پربووو کے سامنے “مشکل” کی اصطلاح کے تحت بیان کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مفصل شواہد اور اعداد و شمار متنِ ماخذ میں دستیاب نہیں تھے، اس لیے اس کہانی کا بنیادی نکتہ اکنامِسٹ کے اس خلاصے تک محدود ہے کہ ایران جنگ اور موسم انڈونیشیا کی مہنگائی کے اہم محرک ہیں اور وہ صدر کے کنٹرول میں نہیں۔




