لاہور (سٹاف رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے مہر، علیحدہ رہائش اور زچگی اخراجات کے حق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیملی اور سیشن کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کو قانون کے مطابق مقدمہ نبٹانے کی ہدایت کی۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایک عورت کے مقدمے میں فیصلہ کیا ہے جو مہر، علیحدہ رہائش اور زچگی اخراجات کے حقوق سے متعلق تھا۔ عدالتِ عالیہ نے نیچے کی سطح کی فیملی اور سیشن کورٹ کے فیصلوں کو معطل یا کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ واپس فیملی کورٹ بھجوا دیا۔ ہائی کورٹ نے واضح ہدایت کی کہ فیملی کورٹ اس کیس کا فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔
حکم نامے میں عدالت نے تین مخصوص حقوق کا ذکر کیا: مہر، بیوی کے لیے علیحدہ رہائش کا حق اور زچگی کے اخراجات۔ فیصلے میں یہ بھی شامل تھا کہ فیملی کورٹ قانونی تقاضوں اور متعلقہ شقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ نمٹائے۔
یہ حکم نامہ اعلیٰ عدالت کی جانب سے عائد کردہ ہدایات اور نیچے کی عدالتوں کے فیصلوں کو برخاست کرنے کی کارروائی کی مثال ہے اور متنازعہ خاندان کے مقدمات میں اعلیٰ عدالتی مداخلت کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے کیس کے آئندہ از سرِ نو انتظام فیملی کورٹ کو سونپ دیا ہے۔




