(ویب ڈیسک) اسرائیل کے انتخابات 27 اکتوبر سے قبل قطبیت رکھنے والے اور طویل المدت وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، الجزیرہ انگلش کے مطابق انہوں نے ملک کی اداروں کی شکل بدل دی ہے۔
الجزیرہ انگلش کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے اور موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو دوبارہ نشست کے لیے میدان میں ہیں۔ رپورٹ نے نیتن یاہو کو ‘‘قطبیت پیدا کرنے والا’’ اور ملک کا ‘‘طویل المدت’’ وزیرِ اعظم قرار دیا ہے۔
مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے دورانِ اقتدار اسرائیلی اداروں کی ساخت اور کارکردگی میں تبدیلیاں کیں۔ رپورٹ نے اس تبدیلی کی سمت اور اثرات کو نمایاں کرنے کے لیے ایک تجزیہ پیش کیا ہے، حالانکہ اصل مضمون میں اداروں کی تبدیلیوں کی تفصیلات اسی مضمون میں دی گئی ہیں۔
الجزیرہ انگلش نے نیتن یاہو کی کوشش کو اس پس منظر میں پیش کیا ہے کہ وہ دوبارہ منتخب ہو کر اپنی پالیسیاں اور اندازِ حکمرانی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تک جب تک انتخابی عمل مکمل نہیں ہوتا، سیاسی منظر نامے اور نتائج کا حتمی تعین ممکن نہیں۔
یہ رپورٹ الکازیرہ انگلش کی ویب اشاعت پر شائع ہوئی ہے اور انتخاب سے متعلق مزید تفصیلات اور تجزیاتی مواد اسی ماخذ میں دستیاب ہیں۔




