اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) رؤف کلاسرا نے لکھا ہے کہ چند دن پہلے کشمیر چوک کے گرین بیلٹ/جنگل پر بلڈوزر چل کر درخت تباہ کیے گئے اور آج اسی جگہ اکتوبر میں شجرکاری مہم شروع کر دی گئی ہے، جبکہ چیرمین سی ڈی اے اور وزیرداخلہ تک اس بات سے نابلد دکھائی دیتے ہیں کہ اکتوبر میں شجرکاری مناسب نہیں۔
رؤف کلاسرا نے اپنی تحریر میں کہا ہے کہ چند دن قبل کشمیر چوک کے ایک گرین بیلٹ یا جنگل میں بلڈوزر چلانے سے درخت تباہ ہو گئے۔ اُن کے مطابق اسی واقعے کے چند دن بعد اسی مقام پر شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا گیا، جو خالقِ تحریر کے نزدیک تضاد اور ناقص منصوبہ بندی کی مثال ہے۔
مصنف نے نوٹ کیا کہ شجرکاری کے لیے مہینوں کا درست انتخاب اہم ہوتا ہے اور اکتوبر میں شجرکاری کے لیے موسمی حالات مناسب نہیں ہوتے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیرمین کیپی ڈی اے اور وزیرداخلہ کو اس پہلو کا ادراک بھی نہیں ہے، جبکہ پہلے درخت کاٹے جاتے ہیں اور پھر انہیں دوبارہ لگانے کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔
یہ کالم ایک تنقیدی نوٹ ہے اور اس میں براہِ راست کسی سرکاری فرد کی جانب سے ردِ عمل یا تصدیق شامل نہیں۔ تحریر میں پیش کی گئی معلومات اور الزام براہِ راست مصنف کی مشاہداتی رائے اور نوشتے پر مبنی ہیں۔




