پاکستان اور قطر کی امریکہ اور ایران کے مذاکرات از سرِِ نو شروع کرانے کیلئے تجاویز پیش
پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے دو ہفتے کی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی سمیت تجاویز پیش کی ہیں؛ دونوں فریقوں نے فوری ردعمل میں شرائط رکھ دیں۔

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تناؤ کم کرنے کے لیے مشترکہ تجاویز پیش کی ہیں جن میں دونوں فریقوں سے نو جولائی سے پہلے والی پوزیشنوں پر واپس جانے، دو ہفتے کی فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو بلا شرط کھولنے اور ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
العرب نشریاتی ادارے العریبیہ اور ترک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد اور دوحہ نے یہ پلان علاقائی اتحادیوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا ہے تاہم واشنگٹن اور تہران نے اِس کے ردعمل میں اپنی شرائط بھی ظاہر کر دی ہیں۔
پاکستانی اور قطری تجاویز میں فوری طور پر دو ہفتے کی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے کھولنے، اور امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کی سفارش شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور دوحہ نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کے کہ دونوں فریق فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ جنوبی لبنان میں جنگ بندی کا نفاذ بھی اِس ایجنڈے میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اِس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاہم، ایران کی اولین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔
ایرانی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا اپنا وعدہ پورا کیا لیکن اِس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کر دیے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کر کے ایران کی سفارتی کوششوں کو دھوکا دیا گیا ہے جبکہ امریکہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے تجاویز پر فوری طور پر اپنی شرائط سامنے رکھ دیں تاہم اُن کی تفصیل تاحال دستیاب نہیں ہو سکیں۔ ایران نے امریکی حملے رکنے کے بعد جوابی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر رکھی ہیں، اور پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اُن کے ڈرونز اور میزائلوں نے امریکی دفاعی نظام کی کمزوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنایا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وقتی وقفہ مستقل اَمن کی بجائے ایک حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے تاہم پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں خطے میں معاشی اور فوجی بحران کو ٹالنے کی کوشش ہے۔



