طالبان کی واپسی اور جنرل باجوہ کے فیصلے سے خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، سینیٹر افنان اللہ

"طالبان کو واپس لینے کے فیصلے سے تباہی ہوئی"

سینیٹر افنان اللہ خان (ن لیگ) نے کہا کہ طالبان کو واپس لینے کے فیصلے اور اس میں جنرل قمر اعظم باجوہ کی شمولیت کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہو گئے ہیں اور فوجی جوان و افسران کے نقصانات بڑھ رہے ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے اپنی حالیہ تقرری میں واضح کیا کہ “خیبرپختونخوا کے حالات ٹھیک نہیں” ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2014، 2015 اور 2016 میں کی جانے والی آپریشنز کے بعد حالات عارضی طور پر قابو میں آئے تھے، لیکن “طالبان کو واپس لینے کے فیصلے سے تباہی ہوئی”۔

سینیٹر کے مطابق اس فیصلے میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر اعظم باجوہ شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں “ہمارے جوان اور افسران شہید ہو رہے ہیں”۔ اس بیان میں سینیٹر نے ن لیگ کی مکمل پروگرام کی حمایت بھی کی، مگر اس کا مکمل متن فراہم نہیں کیا گیا۔

یہ اظهارات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچے ہیں اور حکومتی پالیسیوں پر مزید سوالات اٹھاتے ہیں کہ کس طرح کے اقدامات سے طالبان کی موجودگی اور سکیورٹی کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2846