(ویب ڈیسک) 85.6% ووٹ گنے جانے کے بعد بھی اسرائیل کی انتخابات میں واضح فاتح سامنے نہیں آیا؛ نیتن یاہو کے بلاک کو 53 نشستیں، مخالف اتحاد کو 48 اور عرب پارٹیوں کو 19 نشستیں ملی ہیں، جو کسی بھی گروپ کو 61 نشستوں کی اکثریت تک نہیں پہنچاتی۔
عالمی میڈیا کے مطابق 85.6% ووٹ گنے جانے کے بعد انتخابات کے حتمی رجحانات واضح نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی قیادت والا بلاک 53 نشستوں کے ساتھ سبقت میں ہے جبکہ مد مقابل اتحاد کو 48 نشستیں مل رہی ہیں۔ اسی دوران عرب پارٹیوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
یہ نتیجہ کسی بھی بڑے گروپ کو 61 نشستوں کی پارلیمانی اکثریت فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی گنتی کے یہ اعداد و شمار حتمی نتیجہ قرار نہیں دیے جا سکتے اور کوائٹنگ اور بنڈلنگ کے بعد اعداد تبدیل ہو سکتے ہیں۔
ال جزیرا انگلش کے خلاصے کے مطابق، موجودہ ووٹنگ شیئر اور نشستوں کی تقسیم کے مدنظر کوئی بھی فریق بآسانی حکومت سازی کے لیے اکثریت حاصل کرنے کے قابل نہیں دکھائی دیتا۔ آئندہ دنوں میں اتحاد سازی اور سیاستدانوں کے بیانات اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ حکومت کے قیام کے لیے معاملات توازن میں رہیں گے۔




