ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا دعویٰ: مقدمہ انسانی حقوق کارکنوں کو نشانہ بنانے کی کڑی ہے

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے کہا ہے کہ ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ جبری گمشدگیوں کے کیسز کی پیروی اور انسانی حقوق کے کام کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی ایک کڑی ہے؛ عدالت میں حتمی دلائل جمعرات کو متوقع ہیں۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے کہا ہے کہ ان کے خلاف درج انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے کارکنوں اور وکلاء کو نشانہ بنانے کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے؛ اڈیالہ جیل کی سماعت میں جج نے کہا کہ حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ جمعرات کو سنایا جا سکتا ہے۔

ایمان مزاری، جو جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرتی ہیں، اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے منگل کو اڈیالہ جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں اپنے بیانات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بطورِ احتجاج ریکارڈ کرائے۔

دونوں پر الزام ہے کہ وہ 25 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر رکھی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور پولیس پر حملے میں ملوث تھے، مگر دونوں نے یہ الزامات مسترد کیے ہیں اور کہا ہے کہ واقعے کے بارے میں پولیس کے پاس مجسٹریٹ کے تحریری حکم کا ثبوت موجود نہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق ایمان مزاری نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ رکاوٹ ہٹانے کی اُن کی کوشش شہریوں کی نقل و حرکت کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تھی اور اگر رکاوٹ ہٹانے سے سکیورٹی کو خطرہ ہوتا تو متعلقہ پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں نہیں روکا۔ انہوں نے استغاثہ پر ویڈیو شواہد چھپانے کا الزام بھی لگایا۔

مزاری نے کہا کہ ایک پولیس اہلکار نے اُن پر لوہے کا راڈ پھینکا جس سے وہ زخمی ہوئیں اور پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی گئی ہے، جبکہ ان کے بقول کسی اہلکار کے زخمی ہونے کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

ہادی علی چٹھہ نے بھی اپنی اہلیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے واقعے کے روز خود تسلیم کیا تھا کہ راستہ صرف پندرہ منٹ کے لیے بند کیا گیا تھا اور اُن پر حملہ کرنے والے اہلکار کی موجودگی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے دفاع میں اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوئے۔

دونوں ملزمان نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ان کے خلاف پیش کئے گئے تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں اور آزاد یا نجی گواہ پیش نہیں کیے گئے، اور اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ معطل کرنے کے باوجود گرفتاری اور تفتیشی کارروائیاں جاری رکھی گئیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کے دوران عندیہ دیا کہ اگر ملزمان حتمی دلائل دینا چاہیں تو انہیں موقع دیا جائے گا، جبکہ استغاثہ کی جانب سے حتمی دلائل جمعرات (29 اکتوبر) کو دینے کا ارادہ درج ہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایمان مزاری نے اس مقدمے کو اُن کے انسانی حقوق کے لیے کام اور مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے باعث اُن کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2746