2026 کی پہلی ششماہی: بیٹری اسٹوریج درآمدات 4.5 گیگاواٹ سے زائد

رپورٹ کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں پاکستان نے 4.5 گیگاواٹ سے زائد بیٹری اسٹوریج درآمد کی، جو مجموعی 9.5 گیگاواٹ کا تقریباً نصف بنتی ہے۔

(ویب ڈیسک) پاکستان نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 4.5 گیگاواٹ سے زائد بیٹری اسٹوریج کا سامان درآمد کیا، جو ملک کی مجموعی 9.5 گیگاواٹ درآمدات کا تقریباً نصف بنتا ہے۔

پاکستان نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 4.5 گیگاواٹ سے زائد بیٹری اسٹوریج کا سامان درآمد کیا، جبکہ ملک کی مجموعی درآمدات 9.5 گیگاواٹ کے قریب بتائی گئیں۔ یہ اعداد و شمار ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی ڈائیلاگ کے دوران پیش کیے گئے، جو توانائی اور معیشت کے مسائل پر منعقد ہوا۔

یہ معلومات پارلیمانی فورم برائے توانائی اور معیشت کے زیرِ اہتمام ہونے والی گفتگو میں سامنے آئی، جہاں شرکاء نے بیٹری اسٹوریج کے مستقبل اور پاور سیکٹر میں اس کے ضابطۂ کار پر تبادلۂ خیال کیا۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو صارفین اور صنعتی صارفین بڑھتے ہوئے بیٹری اسٹوریج کی طرف رجوع کر رہے ہیں تاکہ بلند بجلی صفر یا ٹریفک کے خلاف بچا جا سکے۔

ماخذ نے تجزیہ یا تفصیلی ضوابط کا خاکہ فراہم نہیں کیا؛ صرف یہ اعداد و شمار اور فورم کی گفتگو کا اطلاق ریکارڈ کیا گیا۔ فراہم کردہ رپورٹ میں امپورٹس کی مقدار اور مجموعی حصہ واضح طور پر سامنے رکھی گئی: پہلی ششماہی میں 4.5 گیگاواٹ سے زائد جبکہ مجموعی درآمدات قریب 9.5 گیگاواٹ بتائی گئیں۔

ماخذ نے بیٹری اسٹوریج کے استعمال کے پیچھے بنیادی محرکات کے طور پر مہنگی بجلی کے نرخ اور گھرانہ و صنعتی صارفین کی مستقل توانائی تک رسائی کی کوششوں کی نشاندہی کی۔ پارلیمانی فورم میں شامل شرکاء نے مستقبل میں بیٹری اسٹوریج کے نفاذ اور ضوابط پر مزید بحث کرنے کی ضرورت پر زور دیا، مگر صاف طور پر پیش کیے گئے اعداد و شمار کے علاوہ مزید تفصیلی پالیسی تجاویز ماخذ میں دستیاب نہیں تھیں۔

ماخذ: ایک رپورٹ/رپورٹنگ مضمون میں شامل بیانات اور اعداد و شمار اسی دستاویز پر مبنی ہیں اور تبصرے یا اضافی پس منظر ماخذ کے باہر نہیں جوڑے گئے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2742