مریم نواز نے زیرِحراست ملزم کو ‘تھپڑ کے بدلے تھپڑ’ کہنے پر قانونی و انسانی حقوقی تحفظات اٹھ گئے

مریم نواز نے منڈی بہاؤالدین میں کہا کہ متاثرہ لڑکی مجرم کو 'تھپڑ' مارے، جس پر قانونی ماہرین اور ہیومن رائٹس کے گروپس نے کہا ہے کہ قانون زیرِحراست ملزم پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔

منڈی بہاؤالدین (ویب ڈیسک) وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منگل کو ایک خطاب کے دوران متاثرہ لڑکی سے کہا کہ زیرِحراست ملزم کو ‘جتنے تھپڑ اس نے تمھارے منہ پر مارے ہیں، اُتنے تھپڑ تم اس کے منہ پر مارو’، جس پر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے منڈی بہاؤالدین میں یونیورسٹی آف رسول کے خطاب میں لاہور میں حالیہ ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے لیے انصاف پر زور دیا اور کہا کہ ریاست نے متاثرہ کو تحفظ کا احساس دلایا تو یہی کافی ہے۔ اُنھوں نے کہا، “میں نے تھانے میں بچی سے کہا کہ ملزم تمھارے سامنے بیٹھا ہے جتنے تھپڑ اس نے تمھارے منھ پر مارے ہیں، اُتنے تھپڑ تم اس کے منھ پر مارو۔”

مریم نواز کی یہ باتیں اُن کے ٹوئٹس کی تسلسل اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے تناظر میں سامنے آئیں، جن میں ملزم کے خلاف تشدد دکھایا گیا تھا۔ بی بی سی اردو کے مطابق مریم نواز نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ یہ اقدام اُن لوگوں کے لیے ‘زور دار طمانچہ’ ہے جو دولت یا طاقت کے بل پر قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے وزیرِ اعلیٰ کے بیان پر سخت تنقید کی ہے۔ قانونی ماہر عابد ساقی نے بی بی سی اردو سے کہا کہ “قانون زیرِ حراست ملزم پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا، لہذا وزیرِ اعلیٰ خود ایسے اقدامات پر اُکسا کر قانون کی خلاف ورزی”۔ اُن کا کہنا تھا کہ آئین و قانون کے مطابق انصاف عدالتی نظام کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے اور نمائشی اقدامات سے کوئی دیرپا حل نہیں نکلے گا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے مریم نواز کے بیانات کو ‘سمجھ سے باہر’ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ آٹھ مہینے میں سینکڑوں لوگوں کو ‘عدالت میں پیش کیے بغیر مارا گیا’ اور سوال اٹھایا کہ جرائم کے خاتمے کے لیے عدالتوں کے ذریعے سزاؤں کا اطلاق ضروری ہے۔

بی بی سی اردو کے مضمون کے مطابق مریم نواز اور پنجاب حکومت کا موقف رہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ مجرموں کو قانون کے دائرے میں رہ کر انصاف کے کٹہرے میں لانا ہی مستقل نتیجہ دے سکتا ہے۔

ابھی تک کسی سرکاری انتباہ یا عدالتی کارروائی کی تصدیق مضمون میں درج نہیں۔ ایسے بیانات پر مزید قانونی اور عدالتی ردعمل آئندہ خبروں کا موضوع بن سکتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2743