لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں موجود ‘پرچی’ (رجسٹریشن سلپ) نظام کو چار ہفتوں کے اندر ختم کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ مریضوں کو بغیر پرچی یا لمبی قطاروں کے طبی امداد فراہم کی جائے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینز نے یہ ہدایت ایک عوامی مفاد کی پٹیشن کی سماعت کے دوران جاری کی۔ عدالت نے کہا کہ بنیادی حقوق حیات اور صحت کے نفاذ اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پیشنٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرائے گا تاکہ ایمرجنسی اور او پی ڈی مریضوں کو بروقت علاج ملے اور غیر ضروری تاخیر ختم ہو۔
جج نے متعلقہ حکام کو خصوصی سیکرٹری (ہیلتھ) نبیلہ عرفان کی طرف سے دی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگلی سماعت میں اقدامات کی تفصیلی تعمیل رپورٹ دستاویزی شواہد کے ساتھ جمع کروائی جائے۔
عدالت نے پٹیشن میں اٹھائے گئے مسائل کے جواب میں تمام فریقین سے جامع رپورٹس طلب کیں جن میں ہسپتالوں میں درپیش شکایات اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل شامل ہو۔
حکم میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ مذکورہ عوامی مفاد کی عرضی 2020 سے زیر سماعت رہی ہے اور اس دوران طبی سہولیات کے مستقل فقدان اور مریضوں کو علاج حاصل کرنے میں مشکلات برقرار رہنے کی بات کی گئی۔




