لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی ایک رپورٹ کے مطابق اس اکتوبر میں لاہور کی ہوا گزشتہ سال اکتوبر کے مقابلے میں 27% صاف رہی، لیکن یہ بہت حد تک موسم کے بہتر ہونے کی وجہ سے تھا، نہ کہ آلودگی کے کم ہونے کی۔
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی آزادانہ رپورٹ کہتی ہے کہ اس اکتوبر میں لاہور کا ہوا کا معیار گزشتہ برس اسی ماہ کے مقابلے میں 27% بہتر رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بہت حد تک موسم کی بہتری کی وجہ سے تھا، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ آلودگی کے مستقل حل سامنے آچکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ اس بہتری کے باوجود ہوا “ابھی بھی انتہائی غیر محفوظ” سطح پر تھی، یعنی عوام کے لیے صحت کے خطرات موجود ہیں۔ (ماخذ: پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ)
دستیاب متن مختصر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کے بعض تفصیلی دنوں یا مخصوص مانیٹرنگ ڈیٹا کے حوالہ جات یہاں شامل نہیں کیے جا سکے۔ رپورٹ کے مصدقہ اقتباسات کے مطابق ماہِ اکتوبر کے پورے دورانیے میں سال بہ سال موازنہ کیا گیا اور مجموعی شرح اصلاح کا تخمینہ 27% نکالا گیا۔
مزید تفصیلات، جیسے کن ایئر کوالٹی انڈیکس اسٹیشنز سے ڈیٹا لیا گیا یا کن ذرائع سے موسمی اثرات کا اندازہ لگایا گیا، فراہم شدہ خلاصے میں شامل نہیں تھے۔ رپورٹ خود کہتی ہے کہ موجودہ بہتری عارضی ہو سکتی ہے جب تک آلودگی کم کرنے والے ٹھوس اقدامات نافذ نہ کیے جائیں۔




