مہمند میں پولیو ٹیموں کے محافظ دو پولیس اہلکار ہلاک، محسن نقوی کی مذمت

مہمند میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے جائے مامور دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کی۔

مہمند (سٹاف رپورٹر) ضلع مہمند میں موٹر سائیکل سوار مسلح حملہ آوروں نے انسداد پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ ایک زخمی ہو گیا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کی اور اسے ناقابل برداشت قرار دیا۔

ضلع مہمند میں پولیس افسر ایاز خان کے مطابق یہ اہلکار انسداد پولیو کی ایک مہم کے دوران ایک قریبی گاؤں میں ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں ان پر فائرنگ کر دی گئی۔ حملے میں دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے اور تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار ملک کے صحت مند مستقبل کے لیے کام کر رہے تھے۔ خبر کے متن کے مطابق پاکستان میں انسداد پولیو مہمات پر حملے ایک مسلسل سکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں اور پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو طویل عرصے سے شدت پسندانہ حملوں کا سامنا ہے۔

ماخذ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے ایک نئی ملک گیر مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا دورانیہ دو سے آٹھ نومبر تک ہے اور اس کے دوران زیادہ خطرات والے 97 اضلاع میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ مہم میں دو لاکھ سے زیادہ پولیو کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

ماہرین اور عالمی ادارہ صحت کے حوالہ سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے اور ویکسین کے ذریعے بچوں کو دائمی معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ مضامین میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے حملوں سے نہ صرف ویکسینیشن ٹیموں کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے بلکہ دور دراز علاقوں میں بچوں تک ویکسین پہنچانے کی کوششیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ماخذ نے یہ اعداد و شمار بھی دیے کہ پاکستان میں 2025ء کے دوران پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026ء میں اب تک 7 نئے کیسز سامنے آچکے تھے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2953