الیکشن کمیشن نے اراکین اسمبلی کے اثاثہ جات براہِ راست جانچنے کے اختیار کی تجویز دی

الیکشن کمیشن نے رول 137 میں ترمیم کا مسودہ جاری کیا ہے تاکہ اراکین اسمبلی کے اثاثہ جات کی براہِ راست وضاحت طلب کی جا سکے؛ عوامی تجاویز 15 اگست 2026 تک مانگی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 6 انتخابی قواعد 2017ء میں ترمیم کا مسودہ جاری کیا ہے جس کے تحت کونسل اپنے رول 137 میں نیا پرووائزو شامل کر کے اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے سالانہ اثاثہ و ذمہ داری کے بیانات میں شکوک و شبہات کی صورت میں براہِ راست وضاحت طلب کرنے کی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی قواعد 2017ء کے رول 137 میں ایک نیا پرووائزو شامل کرنے کی تجویز دی ہے جس کا مقصد اراکین اسمبلی کے اثاثہ اور ذمہ داری کے بیانات کی براہِ راست جانچ کو ممکن بنانا ہے۔ اِس سلسلے میں تجاویز 15 اگست 2026 تک ای سی پی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں وصول کی جائیں گی۔

ای سی پی کے جاری کردہ مسودے کے مطابق کمیشن کو اختیار ہوگا کہ جب بھی کسی رُکن کی جمع کرائی گئی سالانہ اثاثہ جات کی رپورٹ میں ابہام یا تضاد محسوس ہو تو کمیشن براہِ راست اضافی معلومات طلب کر سکے گا۔ یہ درخواستیں نہ صرف خود نامزد اراکین سے بلکہ متعلقہ سرکاری محکموں، تنظیموں اور مالیاتی اداروں سے بھی کی جا سکیں گی۔

مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے رابطہ کیے جانے والے کسی بھی شخص، سرکاری محکمے، تنظیم یا مالیاتی ادارے پر لازم ہوگا کہ وہ کمیشن کی متعین کردہ مدت میں اس کے سوالات کے جوابات فراہم کرے۔

ای سی پی نے بتایا ہے کہ یہ ترمیم موجودہ حالات کے تحت ضروری ہے اور اسے عوامی مشاورت کے لیے شائع کیا گیا ہے۔

اگر یہ شق منظور ہو جاتی ہے تو کمیشن کے پاس اراکین کے اثاثہ جاتی بیانات کی تصدیق مضبوطی سے کرنے کا قانونی ہتھیار ہوگا کیونکہ اسے متعلقہ اداروں سے براہِ راست معلومات حاصل کرنے کی صلحیت مل جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے بقیہ عمل کے طور پر مسودے پر ملنے والی رائے کا جائزہ لیا جائے گا اور اعتراض کرنے والوں کو سُنا جائے گا جس کے بعد اِس فیصلے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1516