پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ’’مکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر انڈیا میں تشویش کیوں ہے؟

مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے نے بھارت میں تشویش بڑھا دی ہے؛ ماہرین علاقائی اثرات، تاریخی اتحادوں اور ممکنہ جوابی ردِعمل پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) مکہ میں جمعے کو طے پانے والے ’مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے طے کیا ہے کہ ان تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے بعد انڈیا میں تشویش بڑھ گئی ہے، انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وہ تین ممالک کے مابین ہونے والے معاہدے کی پیشرفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

مکہ میں طے پائے اس معاہدے نے خطے میں سلامتی، سفارتکاری اور معاشی تعلقات کے زاویوں سے سوالات اُٹھا دیے ہیں اور بھارت میں خاصی تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ معاہدے کی مشترکہ دفاعی شق کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ایک رُکن ملک پر حملہ ہو تو دیگر اسے حملہ تصور کریں گے۔

بی بی سی اردو کے مطابق تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینئر فیلو تنوی مدان نے ایکس پر لکھا کہ سیٹو کے آرٹیکل چار میں باہمی دفاع کی شق موجود تھی تاہم امریکہ نے اِس میں کچھ شرائط شامل کر رکھی تھیں۔ تنوی مدان کے مطابق سرد جنگ کے دور کے فوجی اتحادوں کے بعد پاکستان ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل ہو رہا ہے۔

معاہدے کے بعد اسرائیلی پوڈکاسٹر اور وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے تلخی آمیز انداز میں سوال اُٹھایا کہ تو اگلی بار جب ایران، حوثی یا عراق میں موجود ملیشیاء سعودی عرب پر حملہ کریں گی تو کیا ترکیہ اور پاکستان ایران، عراق اور یمن پر حملہ کریں گے؟ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو گی تو کیا ترکیہ اور سعودی عرب انڈیا پر حملہ کریں گے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ مکہ کا معاہدہ فوراً کسی تنازعے کا سبب نہیں بنے گا مگر اس کے طویل مدتی اثرات واضح ہیں۔ ترک صحافی اور بروکنگز انسٹیٹیوشن کی فیلو اصلی آیدین تاشباس کے مطابق اسے ابھی ’مسلم نیٹو‘ کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم یہ علاقے میں ملکیت پر مبنی علاقائی سلامتی نظام کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی امور کے ماہر برہما چیلانی نے ’ایکس‘ پر نشاندہی کی کہ اگر مستقبل میں انڈیا ’’آپریشن سندور‘‘ جیسی کوئی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے یا فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو نظریاتی طور پر اسلام آباد اسے جنگی کارروائی قرار دے سکتا ہے اور معاہدے کی اجتماعی دفاعی شقوں کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

معاشی زاویہ بھی اہم ہے، انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان 43 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت ہے، سعودی عرب نے انڈیا میں توانائی، ریفائننگ، پیٹروکیمیکلز اور انفراسٹرکچر میں 100 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زیادہ انڈین مزدور کام کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس معاہدے کا فوری اثر مشرقِ وسطیٰ پر دیکھا جا رہا ہے لیکن اِس کے اثرات دیگر خطوں، خاص طور پر جنوبی ایشیاء میں بھی نمودار ہو سکتے ہیں اور اِس سے پاک بھارت تعلقات میں پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527