پاکستان میں گندم کی قیمتیں 29 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

6 اگست 2026 کو پاکستان میں قومی اوسط گندم کی قیمتیں 29 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں؛ ٹاپ لائن سکیورٹیز مقامی دستیابی محدود بتا رہی ہے اور حکومت ایک ملین ٹن درآمد پر غور کر رہی ہے۔

پاکستان میں قومی اوسط گندم کی قیمتیں کو 29 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، جس کی وجہ مقامی رسد میں تنگی اور بازاروں میں قلت بتائی جا رہی ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق مقامی دستیابی محدود ہے اور وفاقی حکومت سپلائی کو آسان بنانے کے لیے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی قومی اوسط گندم کی قیمتیں 6 اگست 2026 کو 29 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو ملک میں مقامی سپلائی میں تنگی اور مختلف بازاروں میں جاری قلت کا نتیجہ ہے۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی قیمت کا براہِ راست اثر خوراک کی مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز نے کہا ہے کہ گندم کی تیز رفتار قیمتوں میں اضافہ مقامی دستیابی کے محدود ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر قیمتیں بلند رہیں تو آئندہ ماہوں میں پاکستان کے افراطِ زر کے اعدادوشمار پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے، کیونکہ گندم ملک کے خوراکی ٹوکری کے بڑے اجزاء میں شامل ہے اور افراطِ زر کے انڈیکس میں اس کا اہم وزن ہے۔

وفاقی حکومت نے سپلائی کے فرق کو کم کرنے کے لیے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کے امکان کا جائزہ لیا ہے۔ سرکاری حکام نے مبصرین کو بتایا ہے کہ درآمد کا مقصد مقامی بازاروں میں فوری رسد فراہم کر کے آٹے اور دیگر گندم پر مبنی اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو کنٹرول کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی بلند قیمتوں سے کسانوں کو بہتر منافع ملنے کے امکانات ہیں، جو دیہی علاقوں میں خرچ اور اقتصادی سرگرمی کو فروغ دے سکتا ہے۔ تاہم صارفین کو آٹے اور دیگر گندم پر مبنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے اگر یہ رجحان برقرار رہا۔

تجارت اور زرعی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو مختصر مدتی رسد کے انتظام کے ساتھ ساتھ درمیانی اور طویل مدتی پالیسیوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سپلائی کے جھٹکوں کو روکا جا سکے۔

اس پیشرفت نے عوام اور پالیسی سازوں دونوں کے لیے خوراکی سکیورٹی اور افراطِ زر کے مسائل کو نئے سرے سے اجاگر کر دیا ہے، جبکہ کسانوں اور صارفین کے مفادات میں ممکنہ ٹکراؤ بھی سامنے آیا ہے۔ پروپیکشنی کی رپورٹ کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور درآمدی فیصلے کے متعلق مزید تفصیلات قابلِ غور ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2918