پی ایس ایل میں اربوں کی سرمایہ کاری مگر منافع غیر یقینی

پی ایس ایل فرنچائزز کی بھاری فروخت اور محدود ریونیو ماڈل کے درمیان سرمایہ کار خسارے کو سمجھ کر بھی اربوں خرچ کر رہے ہیں، ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ اس سرمایہ کاری کو جذبے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز مالکان اربوں روپے خرچ کر کے ٹیمیں خریدتے ہیں جبکہ منافع کے امکانات غیر یقینی ہیں؛ ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ کہتے ہیں وہ نقصان کو سمجھ کر اور کرکٹ کے جذبے کے باعث سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے متعدد فرنچائز مالکان اس سوال کا سامنا کر رہے ہیں کہ باوجود بھاری بولیوں اور اربوں روپے کے معاہدوں کے، ان سرمایہ کاریوں سے منافع کب اور کیسے ممکن ہوگا۔ بی بی سی اُردو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل کے ابتدائی سال 2016ء میں پانچ فرنچائزز کی مجموعی قیمت ایک ارب 58 کروڑ 80 لاکھ تھی جو ایک دہائی بعد بڑھ کر دو ارب 60 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی۔

حالیہ اوپن بِڈنگ میں شامل ہونے والی تین نئی ٹیمیں مجموعی طور پر چھ ارب روپے میں فروخت ہوئی ہیں؛ حیدرآباد کنگز مین 1.7 ارب، راولپنڈی 2.45 ارب اور ملتان سلطانز 1.85 ارب میں بیچی گئیں۔ مگر موجودہ ریونیو ماڈل کے تحت یہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کی جلد واپسی یا مستقل منافع دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سرمایہ کاروں کو فی ٹیم 85 کروڑ روپے کی واپسی کی ضمانت دیتا ہے، جو بڑی ابتدائی فیس کے مقابلے میں کم محسوس ہوتی ہے۔ ابتدائی پانچ فرنچائزز کو منافع بخش مرحلے تک پہنچنے میں پانچ سے چھ برس لگے، مگر ان کی ابتدائی فیسیں موجودہ نئی فرنچائزز کی فیسوں کے مقابلے میں کم تھیں۔

ملتان سلطانز کے موجودہ مالک گوہر شاہ نے بی بی سی اُردو سے گفتگو میں کہا: ’دیکھو نصیب میں کیا لکھا ہے، میں نے جب ٹیم خریدی تو اسی سوچ کے ساتھ خریدی تھی کہ نقصان ہو گا۔ یہ ایک جذبے والا منصوبہ ہے۔ مجھے اس وقت بھی پتہ تھا کہ نقصان ہو گا اور آج بھی معلوم ہے۔‘

گوہر شاہ نے بتایا کہ وہ ابتدائی بولی میں ٹیم حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے بلکہ بعد ازاں سابق مالک کی مالی ذمہ داریاں پوری نہ کر پانے کی وجہ سے فرنچائز فروخت ہوئی اور انہوں نے خرید لی۔ اُن کا کہنا تھا: ’ایسا نہیں ہے کہ پی سی بی نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہو، پی سی بی نے مجھے سب کچھ بتا دیا تھا کہ یہ پیرا میٹرز ہیں اور یہی ہم دیں گے۔ میں کوئی بچہ نہیں ہوں، مجھے پتہ ہے کہ میں کہاں آ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ مجھے کسی سے شکایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ مجھے تمام قوانین پہلے ہی سمجھا دیے گئے تھے۔‘

رپورٹ میں پی سی بی کی محدود ٹی وی رائٹس آمدنی، سپانسرشپ کی سالانہ نمو کی حد (تقریباً 10 فیصد) اور ہر سال بڑھتے آپریشنل اخراجات کو مالی دباؤ کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ اس بنا پر نئی فرنچائزز کے لیے خسارہ صفر تک پہنچنا ابتدائی فرنچائزز کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل اور مشکل مرحلے میں دکھائی دیتا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531