مصر فی الحال مکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں، ترکی نے بعد میں شمولیت کی دعوت دی

مصر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال شمولیت سے پسپائی اختیار کر رکھی ہے؛ ترکی نے اسے بعد میں شامل ہونے کی دعوت دی جبکہ مصر نے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مکہ میں طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ میں مصر فی الحال شامل ہونے کو تیار نہیں ہے، جب کہ ترک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا کہ مصر بعد کے مرحلے میں اِس میں شامل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تینوں ممالک کا ’قدرتی شراکت دار‘ ہے۔

مکہ میں جمعہ (سات جولائی) کو پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ پر دستخط کیے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

بی بی سی مانیٹرنگ کے حوالے سے شائع شدہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کو ترک وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ مصر بعد کے مرحلے میں اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اِن تینوں ممالک کا ’قدرتی شراکت دار‘ ہے۔ تاہم قاہرہ فی الحال معاہدے میں شمولیت پر غور نہیں کر رہا، اور مصر نے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

برطانیہ میں قائم اور قطر کے مالی تعاون سے چلنے والی ویب سائٹ ’العربی الجدید‘ نے ایک باخبر مصری ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ قاہرہ کو خدشہ ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اسے یمن کے حوثی جنگجوؤں اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں لا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مصری قیادت اس بات سے بھی پریشان ہے کہ شمولیت سے اس کی علاقائی ثالثی کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اتوار کو وضاحت میں کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مکہ معاہدہ میں خطے کا کوئی بھی ایسا ملک شامل ہو سکتا ہے، جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہو۔‘

ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کے بعد ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ بعض مصری سفارتکاروں کے علاوہ سابق اہلکار معصوم مرزوق نے بھی مصر کی غیر موجودگی پر سوال اٹھائے، خاص طور پر اِس لیے کہ 21 جون کو چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک مشاورتی اجلاس قاہرہ میں ہوا تھا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مصر اور متحدہ عرب امارات سعودی قیادت میں قائم بحری اتحاد میں شمولیت سے ہچکچا رہے تھے اور قاہرہ پارلیمانی منظوری اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ 2023ء کے بعد مصر اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1527