اقوامِ متحدہ کی یونیورسٹی برائے پانی، ماحول اور صحت (UNU-INWEH) کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز 2030 تک اس قدر بجلی اور پانی استعمال کر سکتے ہیں کہ یہ سالانہ بنیادوں پر 1.3 بلین افراد کی بنیادی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے برابر اور 945 ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) سالانہ بجلی استعمال کر سکتے ہیں — جو پاکستان، بنگلہ دیش اور نائیجیریا کے مشترکہ بجلی استعمال سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
UNU-INWEH کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ AI کا ماحولیاتی اثر صرف کاربن ایمیشن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ڈیٹا سینٹرز کی توسیع سے ٹھنڈک اور بجلی پیدا کرنے کے لیے پانی کا استعمال بھی نمایاں طور پر بڑھے گا۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030 تک AI کے بجلی کے مطالبے کا زمینی رقبہ 14,500 مربع کلومیٹر سے تجاوز کر سکتا ہے، جو کہ جکارتہ میٹروپولیٹن ایریا کے رقبے کے تقریباﹰ دوگنا ہے۔
مطالعے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ AI کے مجموعی بجلی استعمال میں سے 80 تا 90 فیصد حصہ اب ‘انفرنس’ یعنی ماڈلز کو صارفین کے سوالات کے جواب دینے کے عمل سے متعلق ہے، جو ماڈلز کو تربیت دینے کے مقابلے میں کہیں زیادہ توانائی خرچ کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ChatGPT روزانہ تقریباً 2.5 بلین پرامپٹس (prompts) پروسیس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا سالانہ بجلی استعمال قریباً 383 گیگاواٹ گھنٹے (GWh) بنتا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ نے دکھایا کہ تصویری اور ویڈیو جنریشن جیسے زیادہ توانائی طلب کام بنیادی متن پر مبنی ایپلیکیشنز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں۔ ایک AI تصویر تیار کرنے میں ایک سادہ ٹیکسٹ کلاسیفیکیشن ٹاسک کے مقابلے میں تقریباً 1,450 گنا زیادہ توانائی درکار ہو سکتی ہے، جبکہ ایک مختصر AI ویڈیو تیار کرنا 200,000 اسپیم ڈیٹیکشن درخواستوں کو پروسیس کرنے کے برابر بجلی خرچ کر سکتا ہے۔
رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو AI کے ماحولیاتی اثرات کا اندازہ لگاتے وقت صرف کاربن پر توجہ دینے کی بجائے کاربن، پانی اور زمین کے مشترکہ اثرات کو مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ پاک توانائی کے ذرائع بھی اکثر زیادہ پانی اور زمین کا تقاضا کر سکتے ہیں۔
رپورٹ عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں تیزی کے تناظر میں شائع کی گئی ہے اور پالیسی سازوں، توانائی اور ٹیک کمپنیوں کے لیے وسیع ماحولیاتی پیمانے پر غور و فکر کی سفارش کرتی ہے۔




