کونسل آف اسلامک آئڈیالوجی (سی آئی آئی) اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امورِ مذہبی و بین المذاہب ہم آہنگی نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے والے شوہر پر پانچ ہزار روپے کے جرمانے کو غیر اسلامی قرار دیا۔ یہ رائے کمیٹی کے اجلاس میں مسلم فیملی لاز (ترمیم) بل 2026ء پر تبادلۂ خیال کے دوران سامنے آئی؛ بل 19 جنوری 2026ء کو سینیٹر سرمد علی کی جانب سے متعارف کرایا گیا تھا۔
سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے امورِ مذہبی و بین المذاہب ہم آہنگی نے مسلم فیملی لاز (ترمیم) بل، 2026ء پر بحث کی جس میں ایک شق کے تحت پہلے سے شادی شدہ شوہر کی دوسری شادی پر پہلی بیوی کی رضامندی نہ ہونے کی صورت میں پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر حافظ عبد الکریم نے کی کیونکہ کمیٹی کے باقاعدہ چیئرمین سینیٹر عطاء الرحمان دیگر مصروفیات کے باعث حاضر نہیں تھے۔
کونسل آف اسلامک آئڈیالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی بطور خصوصی شرکاء اجلاس میں موجود تھے اور انہوں نے پاکستان کے خاندانی قوانین میں مجوزہ ترامیم پر کونسل کی رائے پیش کی۔
مجوزہ بل کی ایک اور اہم تجویز موجودہ جرمانے میں اضافہ کرنا ہے: بل کے متن کے مطابق شوہر کی دوسری شادی پر بغیر اجازت جرمانہ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جانا تجویز کیا گیا ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر عبد الکریم نے اِس تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ جب شریعت خود ایسی پابندی عائد نہیں کرتی تو قانون بھی موجودہ پانچ روپے کے جرمانے کی توجیہ فراہم نہیں کر سکتا۔
کونسل آف اسلامک آئڈیالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے پانچ ہزار روپے کے جرمانے کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔
بل کو سینیٹر سرمد علی کی طرف سے 19 جنوری 2026ء کو سینیٹ میں بطور پرائیویٹ ممبر متعارف کروایا گیا تھا اور اجلاس میں اس کی شقوں پر تجاویز اور رائے شماری کے لیے بحث ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی نے اِس معاملے پر کونسل کی رائے کو اہم قرار دیتے ہوئے مزید غور و خوض کا عندیہ دیا تاہم اجلاس میں کسی حتمی فیصلے یا ترمیم کی منظوری کا فوری اعلان رپورٹ میں درج نہیں۔
یہ بحث ملک میں خاندانی قوانین میں مذہبی اور قانونی تقاضوں کے درمیان توازن کے سوالات کو مزید اجاگر کرتی ہے، جبکہ متعلقہ فریقین کی آراء کو مدنظر رکھ کر آئندہ مراحل میں قانون سازی کے سلسلے جاری رہ سکتے ہیں۔




