گوگل نے جمنائی کے تیار کردہ میڈیا سے واٹر مارک ہٹانے کا آپشن متعارف کروا دیا

گوگل نے 14 اگست کو اعلان کیا کہ وہ Gemini اور Flow میں AI تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو سے مرئی واٹر مارک ہٹانے کا آپشن دے رہا ہے، جبکہ SynthID اور C2PA شناخت برقرار رہیں گے۔

گوگل نے اعلان کیا کہ وہ اے آئی سے تیار شدہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو پر ظاہر ہونے والا مرئی واٹر مارک اختیاری بنا رہا ہے، جس سے صارف Settings > Media Watermark کے ذریعے مرئی اے آئی نشان کو آن یا آف کر سکیں گے؛ یہ تبدیلی اومنی، نینو بنانا اور لائیرا ٹولز پر لاگو ہوگی اور فیچر جمنائی اور فلو میں چند روز میں رول آؤٹ کیا جائے گا جبکہ بعد میں سرچ میں بھی شامل کیا جائے گا۔

گوگل کے نائب صدر برائے جمنائی جاش ووڈورڈ نے اعلان کیا کہ کمپنی اے آئی تخلیق کردہ مواد پر نمایاں مرئی واٹر مارک کو صارفین کے لیے غیر ضروری بنائے گی۔ یہ اختیار

اومنی، نینو بنانا اور لائیرا ٹولز

کے ذریعے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور موسیقی پر لاگو ہوگا۔

جب یہ فیچر صارفین کے اکاؤنٹس تک پہنچے گا تو وہ Settings > Media Watermark کھول کر فیصلہ کر سکیں گے کہ تیار شدہ مواد پر گوگل کا مرئی اے آئی نشان دکھائی دے یا نہ دے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ یہ سیٹنگ جمنائی اور فلو (گوگل کا ویڈیو تخلیق اور ایڈیٹنگ پلیٹ فارم) میں رول آؤٹ ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں صارفین کے لیے دستیاب کر دی جائے گی۔ گوگل نے یہ کنٹرول بعد ازاں سرچ میں بھی شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ مرئی واٹر مارک ہٹانے کا مقصد تخلیق کاروں کو زیادہ لچک دینا ہے، خاص طور پر جب نمایاں برانڈنگ پیشہ ورانہ یا تخلیقی پروجیکٹس کے لیے نامناسب محسوس ہو۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ مرئی نشان بند کرنے سے AI-تخلیق کے شناختی نظام ختم نہیں ہوں گے۔

تیار شدہ میڈیا میں گوگل کی غیر محسوس واٹر مارکنگ ٹیکنالوجی SynthID برقرار رہے گی، اور C2PA Content Credentials کی مشین-ریڈیبل معلومات بھی موجود رہے گی جو یہ بتاتی ہیں کہ ڈیجیٹل میڈیا کیسے بنایا یا تبدیل کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف مرئی واٹر مارک تو ہٹا سکتا ہے مگر مواد میں پھر بھی ایسی معلومات موجود ہو سکتی ہیں جو بتائیں کہ گوگل کے AI اوزار استعمال ہوئے تھے۔

گوگل صارفین کو یہ جانچنے کی سہولت بھی دے رہا ہے کہ آیا کسی سپورٹڈ میڈیا میں SynthID موجود ہے یا نہیں، اور یہ ویریفیکیشن صلاحیتیں سرچ اور دیگر گوگل پراڈکٹس میں بھی پھیلائی جائیں گی۔

مزید بر transparency کی کوشش کے تحت گوگل نے Credentio نامی C++ لائبریری بھی اوپن سورس کر دی ہے، جو C2PA Content Credentials کی ویلیڈیشن مقامی طور پر انجام دیتی ہے بغیر کہ میڈیا کو بیرونی سرورز پر اپلوڈ کرنا پڑے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ زیرِِِِِِِِِِِِاستعمال ٹیکنالوجی تقریباً 40 پراڈکٹس میں C2PA فنکشنالٹی مہیا کر رہی ہے اور اس کا دائرہ کئی ارب تیار کردہ اثاثوں تک پھیلا ہوا ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2825