پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے 17 اگست 2026 کو اعلان کیا ہے کہ صوبے نے جماعت اول تا پنجم کے لیے سرگرمی اور تصور پر مبنی نیا نصاب تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد روایتی رٹّہ بازی ختم کر کے طلبہ کو عملی سرگرمیوں اور مشق کے ذریعے تصورات سمجھانا ہے؛ یہ نصاب 2027 کے تعلیمی سیشن کے لیے نئے درسی کتابوں کی بنیاد بنے گا اور کتابیں وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد چھپائی جائیں گی۔
پنجاب حکومت نے ابتدائی تعلیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے جماعت اول تا پنجم کے لیے نیا نصاب مرتب کر لیا ہے۔ صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیا نصاب طلبہ کو روایتی رٹّہ بازی سے ہٹانے کے لیے سرگرمی اور تصور پر مبنی ہوگا۔
سرکاری بیان کے مطابق نئی نصابی ترتیب میں طلبہ کو مباحثوں، تجرباتی کاموں اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے سیکھنے کی ترغیب دی جائے گی، تاکہ وہ محض حفظِ ماتین پر انحصار نہ کریں بلکہ موضوعات کی بنیادی سمجھ حاصل کریں۔ نصاب خاص طور پر جماعت اول سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے اور یہ ابتدائی اسکولوں کے نئے درسی کتابوں کی بنیاد بنے گا۔
وزیرِ تعلیم نے واضح کیا کہ آئندہ 2027 کے تعلیمی سیشن کے لیے درسی کتابیں اسی نئے نصاب کے مطابق چھپائی جائیں گی، البتہ اس کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔ رانا سکندر حیات کا کہنا تھا، “یہ اقدام روایتی رٹّہ بازی کا خاتمہ کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا، “نئی حکمتِ عملی ابتدائی سطح پر تصور پر مبنی تعلیم پر توجہ دے گی۔”
نئے نصاب سے کلاس رومز میں سرگرمیوں کی تعداد بڑھنے اور طلبہ کو موضوعات کو سمجھنے اور سیکھنے میں فعال کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی متوقع ہے۔ بیانات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نصاب کی تیاری کا مقصد تعلیمی معیار میں بہتری لانا اور بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو عملی انداز میں فروغ دینا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کے تحت نصاب کی منظوری کے بعد نصابی کتب کی تیاری اور تقسیم کے اقدامات تیزی سے آئیں گے، تاکہ 2027 کے آغاز تک سکولوں میں نئے اندازِ تعلیم کا اطلاق ممکن بن سکے۔ فی الوقت نصاب کے تکنیکی اور تدریسی خاکے صوبائی محکمۂ تعلیم نے تیار کیے ہیں اور حتمی منظوری کے بعد عملی نفاذ شروع ہوگا۔




