اسلام آباد میں گوگل کا پہلا دفتر: حکومت کا دعویٰ، کمپنی کے پروگرامز اور مقامی ردِ عمل

گوگل نے اسلام آباد میں اپنا پہلا دفتر قائم کرنے کا اعلان کیا؛ وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں سنگِ بنیاد رکھا گیا، کمپنی نے طلبہ کے لیے جیمنائی ایک سال مفت کرنے کا بھی اعلان کیا۔

منگل کی شب وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اسلام آباد میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرنے کا اعلان کیا اور دفتر کا سنگِ بنیاد رکھا۔ نو رُکنی گوگل وفد کی قیادت ولسن وائٹ نے کی، جس میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی شامل تھیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی آئی ٹی صنعت اور نوجوانوں کو مہارت اور ملازمتوں کے مزید مواقع ملیں گے۔

وزیرِ اعظم آفس کے جاری اعلامیے کے مطابق گوگل کے وفد نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور حکومت کو اپنے وژن ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ سے آگاہ کیا گیا۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کے متعدد منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ گوگل کی مقامی موجودگی سے کمپنی کے ساتھ شراکت داری مضبوط ہو گی اور گوگل نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔

گوگل کے نائب صدر برائے حکومتی اُمور و عوامی پالیسی ولسن وائٹ نے اس موقع پر کہا کہ مقامی دفتر پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرے گا اور طویل المدت مواقع پیدا کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس دفتر کے ذریعے مقامی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد ملے گی اور گوگل پاکستان کی نوجوان آبادی کی صلاحیت کو تسلیم کرتا ہے۔

ولسن وائٹ نے اعلان کیا کہ پاکستان کے تمام طلبہ کے لیے گوگل جیمنائی کی سبسکرپشن ایک سال کے لیے مفت کی جائے گی اور باضابطہ اعلان اسی ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کے 30 ارب ڈالر آئی ٹی برآمدات کے ہدف کے مقاصد گوگل کے مقاصد سے مطابقت رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سزا فاطمہ خواجہ نے ایکس پر لکھا: ‘ویلکم ٹو پاکستان گوگل’۔

ولسن وائٹ نے مزید کہا کہ گذشتہ 10 برسوں میں گوگل نے پاکستان میں 3.9 ٹریلین روپے سے زیادہ معاشی سرگرمی میں حصہ ڈالا اور اس کے نتیجے میں نو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ملازمتوں کو سہارا ملا۔ ‘یہ تو صرف ابتدا ہے’، اُنہوں نے کہا۔

اسلام آباد کے سافٹ ویئر ہاؤس کوڈز آربٹ کے سی ای او ضیا الرحمن نے بی بی سی سے کہا کہ جیمنائی کی ایک سالہ مفت سبسکرپشن طلبہ کے لیے فائدہ مند ہوگی اور گوگل کو مقامی افرادی قوت کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

گذشتہ برس نومبر میں ہری پور میں این آر ٹی سی کی سہولت میں گوگل کروم بکس اسمبلی لائن کا باضابطہ افتتاح کیا گیا تھا، جس کے ذریعے کم قیمت کمپیوٹرز طلبہ اور اداروں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ جاز کے سی ای او عامر حیفظ ابراہیم نے بھی ایکس پر اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ دیگر ٹیک کمپنیاں بھی اسی راہ پر چلیں گی۔

سیکڑوں مقامی صارفین اور صنعت کار اس قدم کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ٹیک صلاحیتوں کا اعتراف سمجھ رہے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531