وفاقی کابینہ نے ‘قومی نوعمر اور نوجوان پالیسی’ کی اصولی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے 'قومی نوعمر اور نوجوان پالیسی' کو اصولی طور پر منظور کیا، جو تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات پر مشتمل ہے؛ 32,145 سرویز اور 200,000 سے زائد نوجوانوں کی آراء شامل کی گئیں۔

اسلام آباد — وفاقی کابینہ نے قوم بھر کے نوعمران اور نوجوانوں کے لیے تجویز کردہ ‘قومی نوعمر اور نوجوان پالیسی’ کو اصولی منظوری دے دی، اجلاس کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی۔ یہ فریم ورک تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات کے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے مواقع بہتر کرنے کا ہدف رکھتا ہے، اور پالیسی سازی میں 32,145 سرویز اور 200,000 سے زائد نوجوانوں کی آراء شامل کی گئیں۔

وفاقی کابینہ نے اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی ‘قومی نوعمر اور نوجوان پالیسی’ کو اصولی طور پر منظور کیا، جسے وزارتِ بین الصوبائی رابطہ نے کابینہ کے سامنے پیش کیا۔ کابینہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا اور اس کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ پالیسی چار مرکزی ستونوں پر مبنی ہے: تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات۔ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو حکومتی پالیسی فریم ورک میں شامل کرنا اور انہیں معاشی و سماجی مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔

پالیسی کے نفاذ کے لیے دو ادارے قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے: پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور وفاقی نوعمر و نوجوان ایجنسی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ متعلقہ تجاویز کو حتمی متن میں شامل کیا جائے اور صوبوں کے ساتھ رابطے کو مؤثر بنایا جائے۔

پالیسی سازی کے عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے کابینہ کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 32,145 سرویز کیے گئے اور 200,000 سے زائد نوجوانوں کی آراء حاصل کی گئیں، جو پالیسی کے مسودے میں شامل کی گئیں۔ وزیرِ اعظم نے کابینہ اراکین کی طرف سے دی گئی تجاویز کو پالیسی میں شمولیت کی ہدایت کی۔

اجلاس میں اس کے علاوہ ریاستی ملکیت کی صنعتی کمپنیوں کے بارے میں کابینہ کمیٹی کے 9 جولائی 2026 کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔ اقتصادی رابطہ کاری کمیٹی کے 14 اگست 2026 کے اجلاس کے فیصلے اور منظوری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 18 جون، 30 جولائی، 5 اگست اور 18 اگست 2026 کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کو بھی کابینہ نے منظور کیا۔

سرکاری بیان میں مزید تفصیلات یا پالیسی کے حتمی نفاذی اقدامات کی تاریخیں فراہم نہیں کی گئیں؛ کابینہ نے کہا ہے کہ حتمی مسودہ رائے عامہ اور صوبائی مشاورت کے بعد جاری کیا جائے گا۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531