وفاقی حکومت نے فنانس ڈویژن کی نوٹیفیکیشن کے ذریعے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) عبدالواحد سیٹھ کو تین ماہ کے لیے عبوری صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری 21 اگست کو جاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے عمل میں آئی اور عبوری مدت وہی رہے گی یا جب تک مستقل سربراہ مقرر نہ ہو۔
فنانس ڈویژن کی جانب سے 21 اگست کو جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ عبدالواحد سیٹھ نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے روزمرہ امور کو تین ماہ تک سنبھالیں گے یا جب تک مستقل صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر نہیں ہوتا، جو بھی پہلے آئے۔ یہ اقدام کارپوریٹ گورننس کے ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن فنانس ڈویژن کے اندرونی مالیاتی ونگ کی جانب سے جاری ہوئی اور اسے امنہ شبیر، ڈپٹی سیکرٹری برائے حکومتِ پاکستان نے دستخط کیے۔ نوٹیفیکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ عبوری مدت کے دوران حکومت این بی پی کے مستقل سربراہ کے انتخاب کے عمل کو جاری رکھے گی۔
عبدالواحد سیٹھ اس سے قبل این بی پی کے چیف فنانشل آفیسر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے اور صنعت کے حلقوں میں انہیں پیچیدہ مالی اور بینکاری معاملات سنبھالنے میں نمایاں شہرت رکھنے والا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ متعدد بینکاری پیشہ وران نے سیٹھ کی ان صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ ٹریک ریکارڈ کو سراہا ہے۔
یہ عبوری تقرری رحمت علی ہسنی کی مدت ملازمت کے اختتام کے فوراً بعد نافذ العمل ہوئی؛ جن کی مدتِ صدارت و چیف ایگزیکٹو آفیسر 21 اگست کو ختم ہو گئی۔ سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق سیٹھ فوراً عبوری چارج سنبھال لیں گے اور بینک کے روزمرہ کاروبار کی نگرانی کریں گے۔
حکومت اس عرصے میں مستقل سربراہ کے تقرر کے عمل کو تیز رکھنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ این بی پی کے اندر اور بیرونِ صنعت گروپس میں اس عبوری تقرری پر مختلف ردِ عمل اور توقعات پائی جاتی ہیں۔
مزید کاروباری خبریں، مارکیٹ تجزیے اور معاشی اپ ڈیٹس کے لیے متعلقہ ذرائع ملاحظہ کیجیے۔




