پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں بدھ کے روز پیش آنے والے سانحے کے بعد راولپنڈی انتظامیہ نے بینظیر بھٹو ہسپتال میں آگ سے حفاظتی انتظامات کی چیکنگ شروع کر دی؛ یہ معائنہ اضافی ڈپٹی کمشنر برائے نفاذ عبد الرحمان خان اور ریسکیو ٹیم کی موجودگی میں کیا گیا۔
راولپنڈی انتظامیہ نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں ہونے والے مہلک سانحے کے بعد بڑے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی جانچ شروع کر دی ہے۔ حکام نے بدھ کے بعد بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی کا معائنہ کیا، جس کے دوران اضافی ڈپٹی کمشنر برائے نفاذ عبد الرحمان خان ریسکیو ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق حکام نے اس بارے میں واضح نہیں کیا کہ اتنی بنیادی حفاظتی جانچیں صرف اس وقت کیوں کی جا رہی ہیں جب کسی بڑے عوامی ہسپتال میں پہلے سے کوئی حادثہ رونما ہو چکا ہو۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ معائنہ وقتی اقدامات کی بجائے مستقل، دستاویزی اور اصلاحی کارروائی کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ آئندہ کسی حادثے سے پہلے کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔
پروپاکستانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی ایم ایس سانحہ نے صحت کی سہولتوں میں ایمرجنسی تیاری کی کمی کے سنگین نتائج کو بے نقاب کیا، کیونکہ آگ یا کسی اور آفت کی صورت میں مریض خاص طور پر نازک حالت میں ہوتے ہیں اور مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی صورت میں خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
راولپنڈی انتظامیہ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ بینظیر بھٹو ہسپتال میں بدھ سے پہلے کوئی جامع حفاظتی جانچ کی گئی تھی یا نہیں، اور اگر گزشتہ دوروں میں کسی نقائص کی نشاندہی ہوئی تھی تو وہ رپورٹ کی گئی یا اس پر کارروائی کی گئی۔ مقامی حکام کی جانب سے ان سوالات کے فوری جواب سامنے نہیں آئے۔
ماہرین اور طبی اداروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں باقاعدہ آگ سے حفاظت کی جانچ، فائر ایکزٹ کی دستیابی، الارم اور سنکنگ سسٹمز کی بحالی، عملے کی ایمرجنسی تربیت اور متعلقہ دستاویزات کا برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ قدم پی آئی ایم ایس واقعے کے بعد اٹھائے جانے والے ابتدائی حفاظتی اقدامات کا حصہ ہے، تاہم تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف حادثے کے بعد کی کارروائیاں اس مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہو سکتیں۔ پروپاکستانی نے یہ رپورٹ تیار کی۔




