برازیل کی حکومت نے چیٹ پلیٹ فارم ڈِسکارڈ کے خلاف بدھ کو 97 ملین ڈالر کا ہرجانہ کا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی بچوں اور نو عمر صارفین کے آن لائن تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
برازیل کی حکومت نے چیٹ اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارم ڈِسکارڈ کے خلاف 97 ملین ڈالر کے مطالبہ کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقدمہ کمپنی کو ڈیجیٹل ماحول میں بچوں، نو عمر افراد اور خواتین کے حفاظت کے لیے موثر اقدامات اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ہے اور اجتماعی اخلاقی نقصانات کے ازالے کا تقاضہ بھی اس میں شامل ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ مقدمے کا مقصد ڈِسکارڈ پلیٹ فارم کو ڈیجیٹل ماحول میں بچوں، نو عمر افراد اور خواتین کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات اپنانے پر مجبور کرنا ہے۔ حکومت نے کہا کہ مقدمہ اِسوقت دائر کیا گیا جب کمپنی کے ساتھ مذاکرات ناکام رہے۔
ڈِسکارڈ نے اِس مقدمے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور اِس میں کمپنی کی ملک کے قوانین کے تحت کی جانے والی تعمیل کو درست طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اِس حوالے سے ضروری اصلاحات کر رہی ہے اور نوجوانوں کے لیے پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرے گی۔
اِس مقدمے کے پس منظر میں جولائی کا ایک دلخراش واقعہ شامل ہے جب میٹو گروسو دو سول کے مغربی خطے میں 22 جولائی کو ایک 13 سالہ لڑکی نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی۔ برازیلی وزارتِ انصاف کے مطابق ملزمان نے پہلے اِسے کسی جانور کو مارنے کے لیے زور دیا اور ناکامی پر خودکشی کے لیے اُکسایا۔ اِس کیس میں چار نوعمر اور ایک بالغ فرد بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔
اِس واقعے کے بعد برازیل کی قومی ڈیٹا پروٹیکشن ایجنسی (قومی ڈیٹا پروٹیکشن ایجنسی) (اے این پی ڈی) نے ڈسکارڈ کو 12 اگست کو لائیو سٹریمنگ سروس معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پہلے لوکیشن اور پریشر کے بعد ڈسکارڈ نے عارضی طور پر سٹریمنگ بند کرنے اور نوجوان صارفین کے لیے حفاظتی اقدامات بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے بقول پلیٹ فارم روزانہ تقریباً 90 ملین فعال صارفین کی میزبانی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر برازیل کی حکومت نے آن لائن بچوں کی حفاظت کے سلسلے میں سخت رویہ اختیار کیا ہے، اِسی ہفتے اے این پی ڈی نے بچوں کی رازداری کی خلاف ورزیوں پر ٹِک ٹاک پر بھی 30 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیک کمپنیوں نے صارفین کی مصروفیت اور منافع کو صحت اور حفاظت پر ترجیح دی تاہم ٹیک کمپنیوں کا موقف ہے کہ وہ ہر شائع شدہ مواد یا صارف کے باہمی تعامل کی پوری ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔


