پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ تہران دورہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یا امریکہ کی ہدایت پر کیا گیا اس دعوے سے ’گمراہ کُن‘ ہے؛ دورہ پاکستان کے ثالثی کردار اور آبنائے ہرمز کھولنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا، ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں واضح کیا۔
اسلام آباد — پاکستانی دفترِ خارجہ نے جمعرات کو واضح کیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا تہران دورہ امریکہ کے نمائندے کے طور پر یا امریکی ہدایت پر نہیں کیا گیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ دورہ پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر میں تھا، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں مدد اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں معاونت کرنا تھا۔
طاہر اندرابی نے کہا: ‘‘بعض حلقوں کی جانب سے جو رپورٹیں جاری ہوئیں کہ یہ دورہ امریکی صدر کا پیغام لے کر کیا گیا، وہ گمراہ کُن اور حقائق کے منافی ہیں۔’’ انھوں نے اس سے پہلے بھی دو ٹوک انداز میں یہی موقف بیان کیا کہ دورے کو صدر ٹرمپ یا امریکہ کی ہدایت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
یہ وضاحت اس پس منظر میں آئی ہے جب 24 اگست کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران روانگی سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی، تاہم روئٹرز نے خود یہ بھی کہا تھا کہ بات چیت کے موضوع کی تفصیلات واضح نہیں تھیں۔ ایک صحافی کے سوال پر طاہر اندرابی نے دوبارہ کہا کہ ایسے روابط کی بنیاد پر دورے کو امریکہ کی نمائندگی کہنا درست نہیں ہے۔
دفترِ خارجہ کے بقول اس دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی گئیں جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی شامل تھے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھی کہا تھا کہ ملاقاتوں میں مکمل مذاکرات ہوئے جن میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کھولنے اور تنازع کے جلد خاتمے کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوئی۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی سوشل میڈیا پر ملاقات کو ‘‘نہایت مثبت اور نتیجہ خیز’’ قرار دیا تھا۔
دفترِ خارجہ کا مؤقف ہے کہ پاکستان ایک رابطہ کار، ثالث اور سہولت کار کے طور پر مذاکرات آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن حتمی فیصلے ایران اور امریکہ کو خود کرنا ہوں گے۔ حکومت نے کہا کہ ایسی سرکاری یا بین الاقوامی نوعیت کی بات چیت جب ہو تو باقاعدہ سماجی و سرکاری اعلانات کیے جاتے ہیں۔




