خیبر پختونخوا حکومت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) میں ہلاکت خیز واقعے کے بعد صوبے بھر کے ہسپتالوں اور طبی سہولتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا فوری جائزہ لینے کا حکم دیا، یہ فیصلہ ایک اجلاس میں سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، ضلعی صحت دفاتر اور دیگر محکموں کے افسران کی شرکت میں کیا گیا۔
حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبائی سطح پر ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی تیاری اور آگ کے دوران ردِعمل کے میکانزم کا جامع جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بین الا محکمہ اجلاس میں کیا گیا جس میں سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، ضلعی صحت دفاتر اور متعلقہ محکموں کے نمائندے شریک تھے۔
اجلاس میں موجودہ فائر سیفٹی اقدامات، ہنگامی صورتِ حال میں عمل درآمد کی تیاری اور آگ سے متعلقہ واقعات کے دوران اختیار کیے گئے ردِعمل کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ خیبر پختونخواہ کے سیکرٹری صحت نے ہدایت کی کہ ڈویژنل اور ضلعی سطح پر فائر سیفٹی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ہسپتالوں میں حفاظتی خامیوں کی نشاندہی اور فوری اصلاح ممکن ہو۔
اضافی طور پر حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ بھی جانچیں کہ ہسپتالوں میں کیا ایسے نظام موجود ہیں جو ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل کو یقینی بنائیں، مثلاً ایمرجنسی ایگزٹ راستے، آگ بجھانے کے آلات اور اسٹاف کی تربیت۔ ذمہ داروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جائزہ مکمل کرکے 1 ہفتے کے اندر رپورٹ صوبائی محکمہ صحت کو جمع کرائیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پی آئی ایم ایس میں پیش آنے والے ہلاکت خیز واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے تاکہ مستقبل میں مریضوں اور عملے کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔ متعلقہ محکمے اپنے علاقوں میں فوری بنیادوں پر معائنہ شروع کریں گے اور سفارشات کی روشنی میں ضروری اصلاحات کریں گے۔




