گوادر میں بیچم یا مقامی طور پر ’چاقو‘ کہلانے والی چھوٹی چمکدار مچھلی کے شکار پر مقامی ماہی گیروں کے دو گروپ آپس میں متصادم ہیں اور محکمہ ماہی گیری، حکومتِ بلوچستان نے بڑھتی بین الاقوامی مانگ کے پیش نظر اس کے شکار پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تنازعے کی وجہ ماہی گیروں کی روزگار اور ساحلی ایکو سسٹم پر ماحولیاتی خدشات ہیں۔
گوادر میں بیچم یا ’چاقو‘ کے نام سے جانی جانے والی ایک چھوٹی چمکدار مچھلی نے مقامی ماہی گیروں میں تنازع جنم دے دیا ہے۔ حکومتِ بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے حکام نے بتایا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس مچھلی کی برآمد بڑھنے سے شکار میں اضافہ ہوا، جس کے بعد محکمہ نے یہ شکار روکنے کا فیصلہ کیا۔
سمندری حیاتیات کے محقق سدھیر بلوچ، جو گوادر کے رہائشی ہیں اور چین میں مزید تعلیم حاصل کر رہے ہیں، بی بی سی اردو کو بتاتے ہیں کہ مقامی طور پر بیچم یا چاقو کہلانے والی یہ مچھلی اینگراولیڈیڈ خاندان (اینگراولیڈیڈ خاندان) سے تعلق رکھتی ہے اور اسے اینچوئی بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ مچھلی پلانکٹون کھا کر بڑی مچھلیوں، سمندری پرندوں اور دوسرے شکاری جانوروں کے لیے بنیادی غذا بنتی ہے۔ اس کی کمی پورے ساحلی ماحولیاتی نظام کے توانائی بہاؤ اور غذائی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔‘
سدھیر بلوچ نے خبردار کیا کہ باریک جالوں کے استعمال سے نابالغ اینچوئی بھی پکڑی جا سکتی ہے، جس سے افزائش نسل پر دباؤ بڑھتا ہے۔
محکمہ برائے سمندری ماہی گیری کے ڈائریکٹر احمد ندیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گوادر اور لسبیلہ میں اسی مچھلی کے لیے مختلف مقامی نام رائج ہیں — گوادر میں ’بیچم‘ جبکہ لسبیلہ میں ظاہری شکل کی بنا پر اسے ’چاقو‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مچھلی عموماً انڈین سارڈین جیسی ہوتی ہے مگر پتلی ساخت کی ہوتی ہے اور اگر پکڑنے کے بعد کچھ خراب ہو جائے تو اسے کھاد کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔
احمد ندیم نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں اس مچھلی کی ایکسپورٹ شروع ہوئی، خاص طور پر چینی خریداروں کی مانگ بڑھی تو اس کے شکار میں تیزی آئی۔ گوادر میں مچھلی پراسیسنگ کے 26 کارخانے کام کر رہے ہیں جو سمندری پیداوار برآمد کرتے ہیں۔
مقامی ماہی گیروں میں دو گروہ بن گئے ہیں: ایک گروہ کہتا ہے کہ بیچم/چاقو کو چارے کے طور پر استعمال کیے بغیر بڑی مچھلیاں نہیں آئیں گی اور اس سے ان کا روزگار ختم ہو جائے گا، جبکہ دوسرا گروہ ماحولیاتی تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے اس مچھلی کے شکار پر پابندی کا حامی ہے۔ لسبیلہ میں قریب 250 وائر نیٹ استعمال کرنے والے ماہی گیر اس چھوٹی مچھلی کا شکار کرتے ہیں، جسے بعض مقامی لوگ ’خدا کی دی ہوئی نعمت‘ قرار دیتے ہیں اور حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
محکمہ ماہی گیری کہتا ہے کہ دونوں دلائل کی اپنی جگہ قدر ہے، مگر مقامی ماہی گیروں کی اکثریت کے تحفظ کے بیان کے سبب حکومت نے عبوری طور پر اس شکار پر پابندی نافذ کر دی ہے تاکہ ماحولیاتی اور معاشی اثرات کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔




