پنجاب پولیس نے بدعنوانی کے مبینہ ملوث اہلکاروں کی فہرست تیار کرنا شروع کر دی

پنجاب پولیس نے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم پر ایس ایچ اوز کے خلاف بدعنوانی کے شبہات کی جانچ شروع کر دی؛ خفیہ سرویز، سروس ریکارڈ اور ادارہ جاتی رپورٹس جمع کی جا رہی ہیں۔

پنجاب پولیس نے وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم کے بعد صوبے بھر میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کے خلاف بدعنوانی اور بدانتظامی کے شبہات کے تحت اہلکاروں کی فہرست تیار کرنا شروع کر دی ہے، متعلقہ رپورٹس اور خفیہ سرویز جمع کیے جا رہے ہیں۔

پنجاب پولیس نے صوبائی انتظامیہ کی ہدایت پر ان افسران کی نشاندہی کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے جن پر بدعنوانی یا عوامی خدمت کے معیار میں خرابی کے الزامات ہیں۔ یہ اقدام وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے احکامات کے بعد شروع کیا گیا۔

ضلع اور شہروں میں تعینات اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کے خفیہ سروے، سروس ریکارڈز اور مختلف اداروں کی رپورٹس کو جمع کر کے جانچا جا رہا ہے۔ پولیس اور اسپیشل برانچ کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ان افسران کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز (ڈی آئی جی آپریشنز) فیصل کامران نے کہا کہ مختلف ذرائع سے جمع ہونے والی معلومات کی مکمل تصدیق تک کسی بھی افسر کے خلاف کارروائی شروع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایچ اوز کی تقرری کے حوالے سے انسپکٹر جنرل آفس (آئی جی آفس) کی جاری کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ جن افسران کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات یا ریکارڈ موجود ہیں انہیں اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے عہدے پر برقرار نہیں رکھا جائے گا۔ صوبائی انتظامیہ نے رپورٹوں کی بنیاد پر مشترکہ طور پر شفاف جانچ اور کارروائی کے عمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف اداروں کی جانب سے موصول شدہ رپورٹس، مجرمانہ ریکارڈز اور بدعنوانی کے مقدمات کی تفصیلات لاہور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کو پیر کے روز پیش کرنے کی توقع ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ جو افسران بدعنوانی میں ملوث پائے گئے انہیں فوراً قانون کے مطابق سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ فورس کی صفر برداشت کی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کی بدعنوانی قابلِ قبول نہیں سمجھی جائے گی۔

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عوام کے اعتماد کو بحال کرنے اور پولیس سروس میں شفافیت و احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ مزید اپ ڈیٹس متعلقہ حکام کی جانب سے جاری ہونے والی حتمی فہرست اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1532