بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری خریداری میں سرکاری ملکیت اداروں کو براہِ راست ٹھیکے دینے کے عمل کو سختی سے محدود کیا جائے۔ یہ اختلاف پی پی آر اے قواعد 2026ء کی منظوری میں تاخیر کا سبب بنا اور اِس کی وجہ سے جون 2026ء کی ڈیڈ لائن بھی مِس کر دی گئی۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سرکاری خریداری کرنے والی ایجنسیاں عام طور پر ریاستی ملکیت اداروں (ایس او ایز) کو براہِ راست سامان، تعمیراتی کام، خدمات یا مشاورتی ٹھیکے نہیں دینا چاہئیں، ایسے ٹھیکے صرف محدود، واضح اور عوامی مفاد کے تحت مجاز استثنائی حالات ہی میں دیے جا سکتے ہیں۔
یہ مطالبہ پاکستان کے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ ایکشن پلان کے تحت سامنے آیا، جس کے مطابق پاکستان کو عوامی خریداری کے نئے قواعد یعنی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) قواعد 2026ء کی منظوری اور نوٹیفکیشن جون 2026ء تک دینا تھی۔ یہ ڈیڈ لائن حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان براہِ راست ٹھیکوں کے متعلق شِقوں پر اختلاف کے باعث ضائع ہوگئی۔
سب سے بڑا تنازعہ رول 32-ایف کے گرد ہے جو حکومت اور ریاستی ملکیت اداروں کے مابین براہِ راست ٹھیکوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ ایسے ٹھیکے صرف استثنائی صورتوں میں دیے جائیں، مثلاً ہنگامی منصوبے، جغرافیائی طور پر منتشر یا دور دراز مقامات جہاں براہِ راست اجراء عوامی مفاد میں ہو۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جب کسی منصوبے کے مخصوص حصوں کے لیے بیرونی معاونت درکار ہو تو ذیلی ٹھیکہ جات (سب کانٹریکٹنگ) کل کام کا 40 فیصد سے زائد نہ ہوں، پاکستان نے یہ حد قبول کی ہے تاہم حکومت نے یہ تجویز بھی دی کہ متعلقہ اتھارٹی قواعد کے تحت مالی حدود میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کر سکے۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ اجازت شدہ ذیلی ٹھیکہ حد سے تجاوز کو مادی انحراف سمجھا جائے اور اِسے مل کر چلنے، زبردستی، بدعنوان یا دھوکہ دینے والے رویوں کے ضابطوں کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ جب بھی براہِ راست ٹھیکہ منظور کیا جائے تو اُس میں شفافیت یقینی بناتے ہوئے اُسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔
حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ کشمکش نئے قواعد کی حتمی شکل اور منظوری میں تعطل کا سبب ہے جس کا مقصد 2004ء کے عوامی خریداری کے قواعد کو جدید، شفاف اور بدعنوانی سے پاک نظام کے ساتھ بدلنا تھا۔ پی پی آر اے قواعد 2026ء کی منظوری تا حال زیرِ بحث ہے۔




