پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) کی نیونیٹل نرس رضیہ نورین نے 26 اگست کی صبح بڑھکنے والی آگ کے دوران 15 نومولود بچوں میں سے ایک بچے کی جان بچائی جس پر وزیرِِاعظم شہباز شریف نے اُن کے لیے ایک کروڑ روپے کا انعام اور ’’ستارہِ خدمت‘‘ کا اعلان کیا۔
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پِمز کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں چھ بج کر 38 منٹ پر آگ بھڑک اٹھی جس سے وہاں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 ہلاک ہو گئے اور صرف ایک بچہ زندہ رہ سکا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نرس رضیہ نورین کو آگ لگنے کے فوراً بعد اُس زندہ بچے کو گود میں اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وزیرِاعظم ہائوس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے اُن کی جرات اور بہادری پر رضیہ نورین کو ’’ستارہِ خدمت‘‘ کے ساتھ ایک کروڑ روپے انعام دینے کا فیصلہ کیا۔
نرس رضیہ نورین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حادثے کے وقت وہ طویل شفٹ کے بعد اگلی شفٹ کے عملے کے انتظار میں تھیں، وہ نومولود بچوں کی اپنا سمجھتی تھیں، جب زندہ بچے کو اُس کی ماں کے حوالے کیا تو اُنہوں نے تشکر آمیز نگاہوں سے اُنہیں دیکھا اور یہی اُن کی زندگی کا سب سے بڑا انعام تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کسی ایوارڈ کے لیے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اُن کا بچوں سے لگاؤ اور اُن کے لیے کام کرنے کا شوق تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی جان پر کھیل گئیں تاہم وہ اِس بات پر افسردہ ہیں کہ وہ باقی بچوں کی جانیں نہ بچا سکیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب اُنہوں نے دوسرے بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری میں جانے کی کوشش کی تو اچانک آگ میں شدت آ گئی، چھ بج کر 38 منٹ پر آگ لگی اور چھ بج کر 39 منٹ پر سب کچھ ختم ہو گیا۔
حکام نے واقعے کی مزید تفتیش کے لیے وارڈ میں موجود ایک اور نرس کے علاوہ خاتون گارڈ کو آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنا کر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔




