وفاقی حکومت کا نجکاری پروگرام 2024 تا 2029 اپنے مقررہ شیڈول سے پیچھے چل رہا ہے: پانچ سالہ منصوبے کے پہلے دو سال میں صرف دو سرکاری ادارے نجکاری مکمل کر پائے، جبکہ پہلے سال کا ہدف 10 لین دین طے کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اگست 2024 میں نجکاری پروگرام 2024 تا 2029 کی منظوری دی تھی جس کے تحت 24 تجارتی سرکاری اداروں کو تین مرحلوں میں نجکاری کیا جانا تھا۔ منصوبہ بندی کے مطابق مرحلہ اول ایک سال میں، مرحلہ دوم ایک تا تین سال میں اور مرحلہ سوم تین تا پانچ سال میں مکمل ہو جانا تھا، مگر دو سال مکمل ہونے کے باوجود صرف دو اداروں کی نجکاری مکمل ہوئی ہے۔
اب تک نجکاری مکمل کرنے والے اداروں میں فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) شامل ہیں۔ فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی مالی بندش اپریل 2026 میں ہوئی جب حکومت نے اپنا مکمل 82.64 فیصد حصہ متحدہ عرب امارات کی ای وی ای ہولڈنگ (یو اے ای کی ای وی ای ہولڈنگ) کو منتقل کیا۔ اسی طرح پی آئی اے کی پہلی مالی بندش اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی جون 2026 میں مکمل ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نجکاری کو ملک کی معاشی اصلاحات کے ايجنڈے کا مرکزی حصہ بنایا گیا تھا تاکہ ریاستی کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئے، خسارے میں چلنے والے اداروں کے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے اور نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے باوجود عمل آہستہ رہنے پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی نے بھی ہدایت دی تھی کہ حکومت کا تجارتی نقش کم کیا جائے اور ترجیح خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کو دی جائے، البتہ منافع بخش سرکاری کمپنیوں کو بھی فروخت کے لیے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجکاری کی سست پیش رفت کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سیاسی ارادے کی کمی، قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں، ممکنہ خریداروں کی دلچسپی میں کمی اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے شیڈول کے پیچھے رہ جانے کی وجہ یا آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی باضابطہ وضاحت شائع نہیں کی گئی۔
سرکاری نقطۂ نظر اور وزارتِ خزانہ یا نجکاری حکام کے تازہ بیانات سامنے آنے پر صورتحال واضح ہو سکتی ہے، تاہم اب تک دستیاب معلومات کے مطابق منصوبہ اپنے ہدف سے نمایاں طور پر پیچھے ہے۔




