ڈیرہ غازی خان میں نایاب ‘بھولان’ مردہ ملا، تحفظ اور نگرانی پر خدشات بڑھ گئے

ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ کے کنارے ایک نایاب انڈس ڈولفن 'بھولان' کا مردہ جسم ملا؛ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجی گئی، واقعہ پنجند سینکچری کے قیام کے بعد ہوا جس نے نگرانی کے سوالات اٹھا دیے۔

ڈیرہ غازی خان میں دریائے سندھ کے جنوبی کنارے ایک نایاب انڈس دریا کا ڈولفن، مقامی نام ‘بھولان’، مردہ پایا گیا؛ علاقے کے ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر نے کہا کہ سیلاب کی روانی کے ساتھ یہ مقام آیا اور پانی کم ہونے پر پھنس گیا، لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی۔

ڈیرہ غازی خان کے شیرو ماڈرن پولیس اسٹیشن کے حدود میں، آرائن والا اسپَر کے مشرقی حصے کے جنوبی کنارے دریائے سندھ کے قریب ایک مردہ بھولان کا جسم ملا، مقامی ذرائع نے بتایا۔ قریبی مخالف کنارے پر مقامی لوگوں کی کشتی گزار گاہ موجود ہے۔

جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر شیخ محمد زاہد نے پروپاکستانی کو بتایا کہ یہ ڈولفن حالیہ سیلاب کی روانی کے ساتھ اس علاقے میں آیا مگر پانی گھٹنے کے بعد پھنس گیا۔ اُن کے بقول لاش کو رات دیر گئے پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا ہے اور موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد واضح ہوگی۔ ابتدائی معائنہ میں جسم پر کوئی واضح نشانِ تشدد نظر نہیں آتا، اس لیے ابھرتی ہوئی شواہد کی بنیاد پر شکار کا نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔

یہ واقعہ اس سے کچھ عرصہ بعد پیش آیا ہے جب پنجاب حکومت نے دریائے سندھ کے پانچند حصّے میں تقریباً 198 کلومیٹر محیط ‘پنجند انڈس ریور ڈولفن وائلڈ لائف سینکچری’ قائم کیا، جو سندھ کے موجودہ محفوظ ڈولفن علاقوں کے ساتھ جُڑ کر دریائے سندھ کے تقریباً 400 کلومیٹر طویل قانونی طور پر محفوظ شاہراہ تشکیل دیتا ہے۔

پنجاب میں انڈس ڈولفن کی آبادی کا تخمینہ تقریباً 660 رکھا جاتا ہے جن میں سے تقریباً دو تہائی سینکچری میں مقیم ہیں۔ ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان) کے مطابق یہ میٹھے پانی کے زندہ جانداروں میں سے ایک انتہائی نایاب نوع ہے اور دریائے سندھ کے ماحولیاتی صحت کا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان نے یاد دلایا ہے کہ 2001 کے سروے میں تقریباً 1,200 ڈولفن ریکارڈ ہوئی تھیں، اور بعد ازاں حفاظتی اقدامات سے یہ تعداد تقریباً 2,000 تک پہنچ گئی، مگر اب بھی آلودگی، بیراجوں کی وجہ سے رہائش میں تقسیم، غیر قانونی شکار اور آبپاشی نہروں میں پھنسنے جیسے خطرات برقرار ہیں۔

مقامی وائلڈ لائف حکام نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا اندازہ ہو گا، جبکہ تحفظ اور نگرانی کے انتظامات پر سوالات اور بڑھ گئے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1531