پاکستان کی رانی گھاٹ اور بنبھور کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کی درخواست

پاکستان نے رانی گھاٹ اور بن بھور کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے؛ بن بھور کا عالمی ورثہ کمیٹی کے معائنہ کا دورہ 6 تا 11 ستمبر طے ہے، ساتھ ہی چار روایتی کھانوں کی غیر مادی فہرست میں شمولیت کی تجویز۔

اسلام آباد/ٹیکسلا — وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ (یونیسکو) سے رانی گھاٹ (خیبر پختونخوا) اور بندرگاہ بن بھور (سندھ) کو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے، جبکہ عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا بن بھور کا دورہ 6 تا 11 ستمبر کے لیے متوقع بتایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے بدھ کو یونیسکو کے نمائندے برائے پاکستان فوآد پاشائےف کے ساتھ ملاقات میں دونوں آثارِ قدیمہ مقامات کی شمولیت کی باقاعدہ درخواست جمع کروائی۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مرکز کی عارضی فہرست میں پاکستان کے 37 اثاثے شامل ہیں جن میں رانی گھاٹ اور بن بھور موجود ہیں۔

ملاقات میں بتایا گیا کہ عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کی ٹیم بن بھور کا معائنہ 6 سے 11 ستمبر کے درمیان کرے گی، جسے ماہرین اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی مشاورتی دور قرار دیا گیا۔ معائنہ کمیٹی کا یہ دورہ ممکنہ شمولیت کے عمل میں اہم قدم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مقامی تحفظ، تحقیق اور انتظامی تیاریوں کا براہِ راست جائزہ لیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، وزیر نے یونیسکو سے یہ بھی گزارش کی کہ چار منتخب پاکستانی روایتی کھانوں اور پکوانی رسوم کو غیر مادی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے میں مدد کی جائے۔ ان میں مکئی روٹی اور ساگ (پنجاب)، بلوچِی سجی، سندھی بریانی اور چپلی کباب (خیبر پختونخوا) شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ ان کھانوں کو علاقائی شناخت اور ثقافتی روایت کے بطور عالمی سطح پر تسلیم کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گندھارا کے حوالے سے وزیرِاعظم کے ٹاسک فورس برائے گندھارا کے کوآرڈینیٹر عمران شوکت نے بتایا کہ گندھارا نمائشوں کی بین الاقوامی توسیع اور ‘گندھارا کارنرز’ قائم کرنے کے منصوبے پر کام جاری ہے تاکہ پاکستان کے بدھ متِی تاریخی ورثے کو باہر بھی متعارف کرایا جا سکے۔ ٹاسک فورس منتخب گندھارا مقامات کے اردگرد 5 تا 10 ایکڑ زمین مخصوص کرنے پر غور کر رہی ہے جہاں تحقیق اور مراقبہ کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔

عالمی گندھارا کانفرنس نومبر میں منعقد ہوگی، اور اکتوبر و نومبر میں بنگلہ دیش اور سری لنکا کے وفود کے دورے متوقع ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیاحت، تحقیق اور بین الاقوامی ثقافتی تعاون کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 1515