لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) فروری 2019ء میں اپنا لڑاکا طیارہ گروا کر پاکستانی فورسز کی طرف سے پکڑے جانے والے انڈین ایئر فورس (آئی اے ایف) کے سابق گروپ کیپٹن ابھینندن نے ایک چھوٹی سی علاقائی سطح کی ایئر لائن میں کمرشل پائلٹ کے طور پر نوکری کر لی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھینندن ورتھامن نے 22 سالہ عسکری خدمات کے بعد ریٹائرمنٹ لے کر گوا کی علاقائی ایئر لائن فلائی91 میں کمرشل پائلٹ کے طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اُن کا نام اُس فضائی مقابلے کے بعد عالمی خبروں میں آیا تھا جس میں اُن کا میگ-21 طیارہ پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں مار گرایا گیا تھا اور اُنہیں گرفتاری کے بعد اُن کے بقول ’’بہترین چائے‘‘ پِلا کر واپس بھیجا گیا تھا۔
فلائی91 مارچ 2024 میں آپریشن شروع کرنے والی کمپنی ہے اور فی الحال اِس کے بیڑے میں ’’6 اے ٹی آر 72-600‘‘ طیارے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ سابق گروپ کیپٹن اور ویر چکرا سے مزین افسر اگست میں فلائی91 میں شامل ہوئے تاہم خود ابھینندن نے اِس بارے میں کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور فلائی91 کے ترجمان نے بھی ملازمین کی ذاتی معلومات جاری کرنے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ ابھینندن کا نام اِس تنازعے میں اِس لیے نمایاں ہوا تھا کہ ایک روز قبل انڈیا کی طرف سے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں فضائی کارروائیاں کرنے کی کوشش کی، پاکستان کی جوابی کارروائیوں میں فضائی مقابلہ ہوا جس میں پاکستان نے دو بھارتی طیارے مار گرائے۔ بعدازاں ابھینندن کی گرفتاری کے مناظر بھی سامنے آئے، وہ تین روز تک حراست میں رہے اور ہھر پاکستان نے اُنہیں جذبہ خیر سگالئ کے تحت رہا کر دیا۔ جانے سے قبل اُنہوں نے پاکستان کے حُسنِ سلوک اور چائے کی کُھل کر تعریف کی۔ اُن کی یہ تعریفی ویڈہو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی۔
اُنہیں 2 مارچ 2019 کو اُنہیں واہگہ حدود عبور کر کے بھارت واپس بھیج دیا گیا تاکہ دونوں فریقین کے درمیان خیر سگالی کے ذریعے کشیدگی ختم کرائی جا سکے۔
دلچپست بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے اُنہیں ’’ویر چکرا‘‘ سے نوازا گیا جبکہ ابھینندن کی طرف سے کسی فائرنگ یا دشمن طیارے کے مار گرائے جانے کا دعویٰ بھی کبھی سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور بعض غیر ملکی ذرائع نے اُن دعوؤں کو چیلنج کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ایک پاکستانی ایف-16 مار گرایا گیا تھا تاہم ابھینندن نے اُس پر بھی اپنا دعویٰ ظاہر نہیں کیا۔




