اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پِمز) نرسری آگ کی کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ فائر برگیڈ کو اطلاع دینے کے لیے سکیورٹی عملے کے پاس فائر بریگیڈ کا ہیلپ لائن نمبر ہی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے اطلاع دینے میں 16 منٹ کی تاخیر ہوئی۔
پمز کی نرسری میں آگ صبح 6:38 بجے لگی تاہم سکیورٹی عملہ فائر بریگیڈ کو فوری مطلع کرنے کے بجائے دوسرے افراد سے فائر بریگیڈ کا نمبر پوچھتا رہا۔ بعدازاں عملے کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بالآخر پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کو آگ کے بارے میں اطلاع دی اور پھر 15 نے فائر بریگیڈ کو 6:54 بجے مطلع کیا یوں اطلاع دینے میں 16 منٹ کی تاخیر ہوئی۔
اسلام آباد پولیس نے فوجداری تفتیش کے دوران پِمز کے طبی، غیر طبی، تکنیکی اور سکیورٹی عملے کے آٹھ اہلکاروں کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ تحقیقات ذمہ داری طے کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں اور ممکنہ طور پر پمز کے انتظامی ڈائریکٹر سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔
پمز کی تحقیقاتی کمیٹی انتظامی غفلت، تربیت کی کمی یا دیگر انتظامی خامیوں کا تعین کر کے پیر کو اِسے متعلقہ حکام کو پیش کرے گی ۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بھی سامنےآیا کہ 6 جولائی کو پِمز نرسنگ ہاسٹل میں صبح تقریباً 3:00 بجے لگنے والی آگ کی فائر بریگیڈ کو اطلاع بھی کسی خاتون نے 4:12 بجے کال کر کے دی تھی۔




