پشاور کے شمشاتو کیمپ کے قریب سِی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے جمعرات کو آئی ایس پشاور (سٹاف رپورٹر) سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں جن پانچ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اُن میں عمران عرف عبد اللہ بھی شامل تھا جسے رواں سال فروری میں امام بارگاہ حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔
پشاور کے شمشاتو کیمپ کے ارد گرد محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے عملے نے ایک مقابلے کے بعد داعش کے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ماےر گئے دیشت گردوں سے ایس ایم جی، چار پستول، دو ہینڈ گرینیڈ، پانچ میگزین، مقامی سطح پر تیار کردہ آئی ای ڈی اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
شناختی کارڈوں سے دو دہشت گردوں کی شناخت ممکن ہوئی جبکہ بقیہ تین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق عمران عرف عبد اللہ عرف بلال عرف ابو بکر کو 20 مقدمات میں شامل دہشت گردی کے مرتکب افراد کے طور پر شناخت کیا ہے۔ عمران پر نہ صرف اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجہ الکبرہ پر خودکش دھماکہ کے منصوبے کے ماسٹر مائنڈ ہونے بلکہ وہ آئی ای ڈی حملوں، پولیس افسروں اور سیاسی رہنماؤں کے قتل اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف خودکش حملوں کے الزماات بھی تھے۔
سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ عمران نے نہ صرف باجوڑ سے خودکش جیکٹ کا انتظام کیا تھا بلکہ نوشہرہ سے خودکش دھماکہ کرنے والے کو اسلام آباد منتقل بھی کیا تھا۔ اسلام آباد امام بارگاہ حملے میں 32 افراد ہلاک اور تقریباً 169 زخمی ہوئے تھے۔
سِی ٹی ڈی کے مطابق اس کارروائی سے دہشت گرد نیٹ ورک کا ایک اہم ستون گِرا دیا گیا ہے جو ملک کی سلامتی کے لئے بڑا سنگ میل ہے۔
سی ٹی ڈی حکام نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام کی حمایت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سِی ٹی ڈی ہر ممکن کوشش کرے گا کہ اس طرح کے حملے دوبارہ نہ ہوں تاہم عوام کو کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع مقامی سیکورٹی اداروں کو دینی چاہئے۔ سکیورٹی فورسز کی اِس کامیابی سے پشاور اور اِس کے اطراف کے علاقوں میں اب دہشت گردی کے خطرہ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔




