حکومت نے جمعرات کو سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کا اعلان کیا، یہ کمی تین ماہ کے لیے نافذ ہوگی اور صرف غیرآپریشنل گاڑیوں پر لاگو ہوگی۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ہفتے کے آغاز میں ایندھن کے استعمال کو کم کرنے اور مالیاتی پابندیوں کے تحت نئی ہدایات جاری کیں۔ کیبنٹ ڈویژن کے ذریعے جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن الاؤنس میں پچانص فیصد کمی کی جائے گی اور یہ کمی تین ماہ تک برقرار رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی غیر ملازم سے متعلق اخراجات میں بھی پانچ فیصد کمی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے جاری کنندہ کیبنٹ سیکرٹری کامران علی افضال نے واضح کیا کہ فوجی، سول فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آپریشنل گاڑیاں اس کٹوتی سے مستثنیٰ رہیں گی۔ تاہم ان اداروں کی انتظامی اور غیرآپریشنل فارمیشنز کی گاڑیوں پر یہ پابندی لاگو ہوگی۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبوں کے تحت استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی اس ایندھن کی بچت کے اقدام سے مستثنیٰ رہیں گی۔
یہ اقدام اس وقت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جب حکومت مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ایندھن الاؤنس میں یہ نمایاں کمی سرکاری اخراجات میں واضح کمی کا باعث بنے گی اور بجٹ کے دیگر اہم شعبوں کے لیے وسائل خالی کرے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے ذریعے توانائی کے استعمال میں بھی کمی آئے گی اور ماحولیاتی اثرات میں بھی بہتری ممکن ہوگی۔
یہ نئی پالیسی فوراً نافذ ہو گئی ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کے مطابق اپنے ایندھن کے حساب کتاب کو اپ ڈیٹ کریں۔ عوامی ردعمل ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے، تاہم ماہرین نے اس قدم کو مالیاتی نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر سراہا ہے۔
حکومت کے بیان کے مطابق یہ ایندھن کی بچت اور اخراجات کی پابندی تین ماہ کے بعد دوبارہ جائزہ لی جائے گی اور ضرورت کے مطابق اقدامات کو جاری یا توسیع دی جا سکتی ہے۔




