نیلم (مطفر آباد) سندس، جو اب عبدالعزیز کے نام سے جانے جاتے ہیں، رواں ہفتے اذاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے اپنے گاؤں نوگراں واپس پہنچے — وہ 11 برس کی عمر میں ایک سکول ٹیچر کخوف کی وجہ سے گھر چھوڑ گئے تھے، اور 66 برس بعد ان کے استقبال کے لیے ان کے والدین موجود نہ رہے بلکہ خاندان کی نئی نسل نے انہیں ملایا۔
سندس کی کہانی ایک ایسی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو ایک کم عمر بچے کے خوف سے شروع ہو کر طویل جدائی میں بدل گئی۔ ماخذ کے مطابق سندیس نے سنہ 1960 میں، جب ان کی عمر 11 برس تھی، گوہر آباد سکول میں پڑھائی کے دوران اپنے ایک استاد کے ڈر سے گھر اور گاؤں چھوڑ دیا۔
ماہ و سال گزرتے گئے اور خاندان کو سندیس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی۔ سندیس خود بتاتے ہیں کہ وہ فیصل آباد پہنچ گئے اور وہاں اور بعد میں مختلف شہروں میں محنت مزدوری کرتے رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ سکول ٹیچر کا خوف انہیں کبھی گھر واپس آنے کی ہمت نہیں دے سکا۔
بعد میں وہ رحیم یار خان کے قریبی گاؤں خان پورا کٹورا منتقل ہو گئے جہاں مقامی رہائشی سعید احمد اور رفیق احمد نے انہیں ملازمت دی اور وہ اسی کمیونٹی کا ایک حصہ بن گئے۔ سندیس نے کہا کہ وہاں ان کا شناختی کارڈ بھی تبدیل کر کے “عبدالعزیز” لکھوایا گیا تا کہ وہ رسمی معاملات میں مسائل کا شکار نہ ہوں۔
سندیس نے
سنہ 2005 کے زلزلے کے بعد اپنی طرف سے ایک مسجد تعمیر کروائی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے گھر والے زلزلے میں ہلاک ہو گئے ہوں گے۔ اس طرح دہائیوں تک رابطہ منقطع رہا۔
واپسی کا راستہ ایک اتفاق اور مقامی رابطے کے ذریعے کھلا۔ سندیس اکثر دکان پر بیٹھ کر اپنی کشمیری شناخت کا ذکر کرتے تھے اور ایک شخص رشید نے وہاں موجود ڈرائیور رمضان سے رابطہ کیا۔ رمضان نے خاندان تلاش کیے اور بالآخر سندیس کے بھتیجے متین کو رابطہ کروایا۔ اسی ملنے جلنے کے نتیجے میں سندیس رواں ہفتے نوگراں پہنچے اور انہیں خاندان کی نئی نسل نے خوشی سے ملایا۔
سندس نے بتایا کہ واپسی کے باوجود ان کے والدین اور بہن بھائی اس دنیا میں موجود نہیں تھے، اس لیے خوشی اور غم دونوں جذبات ان کی ملاقات میں شامل تھے۔ گاؤں والوں اور نئے رشتہ داروں نے برسوں بعد لوٹ جانے والے بزرگ کا دل کھول کر استقبال کیا۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ چھوٹی عمر کے امکانی خوف اور سماجی دباؤ کس طرح انسان کی زندگی پر طویل اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور کس طرح رابطے کے چھوٹے ذرائع بھی طویل مدت کے بعد خاندان کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں۔




