مولان پور (ویب ڈیسک) بھارت کے کپتان شبمن گِل نے 2-1 ایک روزہ سیریز جیتنے کے باوجود کہا ہے کہ 2027 ورلڈ کپ سے قبل ان کی ٹیم کو ڈیتھ اوورز میں بولنگ پلان اور فیلڈنگ بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
مولان پور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرا ایک روزہ میچ رنز کے شاندار تعاقب کے بعد بھارت کا 2-1 سیریز جیتا مگر کپتان شبمن گِل نے پرفارمنس کے بعض پہلوؤں پر تشویش کا اظہار کیا۔ گِل نے کہا کہ خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں ٹیم واضح حکمتِ عملی کے بغیر کھیلتی دکھائی دیتی ہے: “میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض اوقات ہمیں واضح نہیں ہوتا کہ ہم حملہ کر رہے ہیں یا دفاع، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں بولنگ کے دوران۔”
گِل نے فیلڈنگ میں خامیوں کو میچ کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا اور کہا کہ گرے ہوئے کیچز ٹیم کے گیئر کو بریک کر دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا: “ہم نے تقریباً 3-4 کیچز ڈراپ کیے، جو ٹیم کی رفتار کو توڑ دیتے ہیں۔ فیلڈنگ معیار کے مطابق نہیں رہی، ہم میدان میں سست روی دکھائی دی، یہ وہ علاقے ہیں جنہیں ہمیں ورلڈ کپ کی طرف جاتے ہوئے بہتر کرنا ہے۔”
میچ میں بھارت نے بیٹنگ میں گہرائی دکھائی لیکن چارٹر اوورز میں تجرباتی بولنگ لائن اپ کو آزماتے ہوئے اختتامی اوورز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جَسپرِت بُمراہ ایشیائی کھیلوں میں مصروف تھے اور آل راؤنڈر ہردک پاندیا ابھی تک مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے بھارت کو اپنی پسندیدہ ترکیب میدان میں اتارنے میں دشواری رہی۔ محمد سراج صرف ایک میچ میں کھیلے، جس سے ریزرو بولرز پر دباؤ بڑھ گیا۔
گِل نے کہا کہ ٹیم کے پاس ورلڈ کپ تک تجربہ حاصل کرنے کے لیے وقت کم ہے اور امید ظاہر کی کہ اگلی سیریز تک ان کی مطلوبہ ترکیب دستیاب ہوگی۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو دباؤ میں آزمائے جانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور نمبر آٹھ پر بولنگ کے ساتھ بیٹنگ دینے والے کھلاڑی کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ بھارت کی اگلی ایک روزہ سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل ہوگی، جسے گِل نے اپنے ورلڈ کپ پلان کی تیاری کے لیے اہم قرار دیا۔




