پاکستان اقتصادی موڑ پر: برآمدات، صنعتی اصلاحات اور آٹو پالیسی کا آزمائش

ماخذ کے مطابق ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور 21 ارب ڈالر سے زائد ذخائر کے باوجود پاکستان کو برآمدات کمزور، قرضوں کا بوجھ اور صنعتی اصلاحات کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔

لاہور (سٹاف رپورٹر) پاکستان ایک اہم اقتصادی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریکارڈ سطح کی ترسیلاتِ زر، بیرونی ذخائر میں 21 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ اور اگست 2026 میں موجودہ کھاتے کا خسارہ $98 ملین ہونے کے باوجود قرضوں کے بوجھ اور صنعتی پالیسی کے فیصلوں نے ملک کو تجارتی اور صنعتی اصلاحات کے ایک مشکل توازن کی طرف دھکیلا ہے۔

ماخذ میں شائع مفصل تجزیے کے مطابق پاکستان کی حالیہ مالی صورتحال دو مخاصم قوتوں کے درمیان متوازن نظر آتی ہے: ایک طرف ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور یورو بانڈ کے حصول کے بعد “بیرونی ذخائر 21 ارب ڈالر سے زائد” تک پہنچ گئے ہیں جو معیشت کو وقتی جھٹکے برداشت کرنے کی گنجائش دیتے ہیں، اور دوسری طرف معیشت کے ساختی مسائل، کم برآمدات اور صنعتی غیر مسابقت نے طویل المدت خطرات پیدا کر رکھے ہیں۔

ماخذ نے بتایا ہے کہ “اگست 2026 میں موجودہ کھاتے کا خسارہ $98 ملین” تھا، جو خطے کی بدامنی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود نسبتاً کم رہا، مگر اسی دور میں مالی سال 26 کے قرضے “$21.5 ارب سے زائد” تک پہنچ گئے اور ان میں سے “$10 ارب” کی رول اوور متوقع ہے، جو خزانے پر دباؤ برقرار رکھتا ہے۔

تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ حقیقی اقتصادی خود مختاری تبھی ممکن ہے جب معیشت کو پیداواری ساخت میں تبدیل کیا جائے، برآمدی مسابقت بڑھے اور بیرونی مالی امداد پر انحصار کم ہو۔ اس تناظر میں حکومت کی جانب سے تیار کردہ “آٹو پالیسی 2026-2031” کا مسودہ اہم اشارے دکھاتا ہے: اس میں برآمدات اور لوکلائزیشن کے اہداف رکھے گئے ہیں اور نئی برقی گاڑیوں کو ٹیکس سبسڈی کے ذریعے فروغ دینے کی تجاویز شامل ہیں، جن کے ذریعے پیٹرول و ڈیزل کے بل میں کمی اور ماحولیاتی اثرات کم کرنے کی توقع ہے۔

ماخذ نے ویتنام اور مراکو کی مثالیں دی ہیں جہاں آٹو سیکٹر کی بڑی ریفارمز اور آزاد تجارتی نیٹ ورکس نے پیداوار اور برآمدات میں مسلسل اضافہ یقینی بنایا۔ اس کے برعکس پاکستان نے تجارتی شراکت داریوں اور غیر ٹیرِف رکاوٹوں کو کم کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جس سے ملکی صنعت عالمی ویلیو چینز سے جڑنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ “ایس آر او” نظام نے صنعتوں کو قابلِ ذکر نقصان پہنچایا ہے اور اسے ختم کرنے کے منصوبے جاری رکھنے چاہئیں، جب کہ سرکاری پالیسیاں او ای ایمز کو مقامی وینڈرز کی شمولیت پر مجبور کریں اور چھوٹے وینڈرز کے لیے ری فنانسنگ، تحقیق و ترقی اور معیار کے حصول کے آسان راستے فراہم کیے جائیں۔

ماخذ کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ فوری مالی سہارا — ترسیلاتِ زر اور ذخائر — موقع فراہم کرتا ہے کہ پاکستان صنعت اور تجارت کی ساختی اصلاحات کرے، مگر اس کے لیے واضح، پیشگوئی پذیر ٹَیرِف پالیسی، سرمایہ کاری کو فروغ اور عالمی معیار کے مطابق ہارمونائزیشن کی ضرورت ہے۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2750