کرک (سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اتوار کی شب کرک پہنچ گیا، جبکہ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی پر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے اپنے مطالبات اور لائحہ عمل کا اعلان کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان دو روزہ مذاکرات ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اتوار کی شب کرک پہنچ گیا۔ مذاکرات کے دو ادوار جمعہ اور سنیچر کو ہوئے جن میں فریقین اب تک اتفاق رائے پر نہ پہنچ سکے۔
حکومت کے مذاکراتی وفد میں رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری اور سینیٹر شیریں رحمان شامل تھے جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی میں بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ رجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے۔ مذاکراتی ٹیموں نے سوشل میڈیا پر مذاکرات کی تفصیلات اور ناکامی کی وجوہات بیان کیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کی شب مذاکرات میں “99 فیصد معاملات طے” پا چکے تھے مگر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسے ویٹو کر دیا۔ نقوی کے مطابق صوبائی حکومت نے متفقہ تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے سے انکار کیا۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ مذاکرات تب ڈیڈلاک کا شکار ہوئے جب حکومت نے کچھ بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے۔ پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے کہا کہ تین اہم مسائل مذاکرات میں رکاوٹ بنی: عمران خان تک رسائی، سابق وزیرِ اعظم کی صحت اور اُن کے ذاتی معالجین تک رسائی، اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی پالیسی جس میں پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ فیصلے یکطرفہ نہ ہوں بلکہ صوبائی و وفاقی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنایا جائے۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے ضم اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی حمایت مانگی، جسے پی ٹی آئی کی ٹیم قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے بنوں اور کرک سرحد پر لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ وہ اور پی ٹی آئی کی قیادت متعدد عسکری و خارجہ امور پر ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہہ چکے ہیں اور علاقائی فیصلے صوبے میں ہی ہوں گے۔
مذاکراتی ناکامی کے بعد فریقین نے اپنی حکمتِ عملی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے؛ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ لانگ مارچ شرکاء اپنے طے شدہ راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔



