کرسٹا پائیک کی سزائے موت کے دو مہلک انجیکشن کے باوجود زندہ

20 سال قبل کرسٹا پائیک سے ملاقات کرنے والی صحافی ہیلن رابرٹس نے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 50 سالہ پائیک گذشتہ بدھ کو دو مہلک انجیکشن کے باوجود زندہ رہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی اردو کے مطابق لگ بھگ 20 سال قبل صحافی ہیلن رابرٹس نے امریکی ریاست ٹینیسی میں موت کی سزا پانے والی قیدی کرسٹا پائیک سے ملاقات کی تھی؛ 50 سالہ پائیک کو گذشتہ بدھ کو پینٹو باربیٹل کے دو مہلک انجیکشن دئیے جانے کے باوجود زندہ رہنے اور تشویشناک حالت میں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق ہیلن رابرٹس نے بتایا ہے کہ وہ تقریباً 20 سال قبل ریاست ٹینیسی کی خواتین کے سخت سکیورٹی والے جیل میں کرسٹا پائیک سے ملی تھیں تاکہ ملزمہ کی شخصیت اور پس منظر کو سمجھا جاسکے۔ اُس وقت کرسٹا پائیک کی عمر 30 برس تھی اور وہ سزائے موت پانے والی امریکہ کی سب سے کم عمر خاتون ہونے کے باعث میڈیا کی توجہ کا مرکز رہیں۔

رابرٹس نے اس ملاقات کو ذہن نشین یاد قرار دیا اور بتایا کہ اس دن دونوں کے درمیان گہرا انسانی رابطہ محسوس ہوا۔ ملاقات شیشے کی ایک دیوار کے پار ہوئی، دونوں نے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بات کی اور رابرٹس نے بعد ازاں کہا کہ پائیک ایک ایسی شخصیت دکھائی دیتی تھیں جن کے اندر دو متضاد رخ تھے — ایک عام انسان جیسا رویہ اور دوسری طرف اُن کے مؤقف سے جڑا ہولناک جرم۔

ذرائع کے مطابق کرسٹا پائیک کو سنہ 1996ء میں ایک قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ 1995ء میں جب ان کی عمر 18 برس تھی تو وہ اور ان کے اس وقت کے بوائے فرینڈ نے 19 سالہ کولین سلیمر کو تشدد کے بعد قتل کیا تھا۔ اس جرم کے بعد عدالتی کارروائیوں میں پائیک کو سزائے موت جبکہ ان کے بوائے فرینڈ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

بی بی سی اردو کے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ 50 سالہ پائیک کے خلاف گذشتہ بدھ کو سزائے موت نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ ”پینٹو باربیٹل کے دو مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود بھی زندہ رہیں” اور ان کی طبی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امریکہ میں موت کی سزا عموماً پھانسی کے بجائے زہریلا انجکشن دے کر نافذ کی جاتی ہے اور اس صورتِ حال نے دوبارہ موتِ سزا کے اطلاق اور نفاذ کے طریقہ کار پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

رابرٹس نے ملاقات کے دوران پائیک کے کھلے انداز گفتگو کرنے اور سوالات کے واضح جواب دینے کی جانب اشارہ کیا، جبکہ ساتھ ہی کہا کہ کبھی کبھار وہ ایک عام انسان جیسا محسوس ہوتی تھیں۔ ملاقات کے دوران دونوں کے مابین عمر کا فاصلہ کم تھا جس نے رابرٹس کے مطابق کچھ مشترکیاں جنم دیں جنہوں نے ابتدائی طور پر گفتگو کو نرم بنایا۔

اب جبکہ سزائے موت کے نفاذ کی کوشش کے باوجود پائیک زندہ ہیں اور صورتِ حال تشویشناک ہے، ماہرین اور حقوقِ انسانی کارکن اس واقعے کے طبی، قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر مزید بحث متوقع قرار دیتے ہیں۔

Avatar photo
Project Lamha
Articles: 2836