ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی نئی پالیسی پیپر کے مطابق، 2024 میں پاکستان کے جیلوں میں 73٪ سے زیادہ قیدی مقدمہ زیر التواء ہیں، جبکہ 2017 میں یہ تناسب 66٪ تھا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ‘بی یونڈ دی پرِزن وال’ نامی پالیسی پیپر جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں ملک کے قید خانوں کی آبادی کا 73 فیصد سے زائد حصہ زیر التواء قیدی ہیں۔ یہ شرح 2017 کے 66 فیصد سے نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں مقدمات کی طویل سُدھائی اور قیدیوں کے حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مصنفین نے اس صورتحال کی جانب توجہ دلائی ہے اور قانونی نظام کی تیز رفتار اصلاحات، جلدی مقدمات کی سماعت اور زیر التواء قیدیوں کی رہائی کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کے ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہیں کہ کس طرح عدالتی سسٹم کی ناکامی قیدیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہے۔




